جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بجٹ کے نتیجے میں ملک پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟آئی ایم ایف کی شرائط کا کتنا عمل دخل ہے؟اقتصادی ماہرین نے تشویشناک پیش گوئی کردی

datetime 11  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) اقتصاد ی ماہرین نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس بجٹ کے نتیجے میں ملک میں غربت، بے روزگاری او رمہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہاکہ آئندہ بجٹ بنیادی طور پر آئی ایم ایف کی پیشکی شرائط پر مبنی ہے اور پی ٹی آئی کے منشور اور وعدوں کے براہ راست متصادم ہے، یہ بجٹ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ غیر متواز ن بھی ہے۔

بجٹ بناتے وقت زمینی خقائق کو نظر انداز کیا گیا گزشتہ دس ماہ میں معیشت کی شرح نمو اس سے کم رہی جو حکومت کو ورثے میں ملی تھی اور اگلے مالی سال میں بھی یہ کم رہے گی۔ جبکہ براہ راست اور بیرونی سرمایہ کاری میں 52فیصد کمی ہوئی اور افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کی ٹیکس وصول کا ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اگلے مالی سال میں دفاع کی مد پر 11سو پچاس ارب، قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد پر 29سو ارب روپے اوراین ایف سی کے تحت صوبوں کو 32سو پچا س ارب روپے دینے کی تجویز ہے جو کہ 7ہزار تین سو ارب روپے بنتے ہیں۔ بجٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کو جو رقم دی جارہی ہے اس میں سے 4سو 23ارب روپے خرچ نہیں کریں گے تاکہ بجٹ خسارے کو بڑھنے سے روکا جائے اس کا مطلب ہے کہ تعلیم،صحت اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی ہوگی اس بجٹ کے نتیجہ میں ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد کرنے سے غریب کی زندگی مزید مشکل ہوگی۔ ہم چاہتے تھے کہ ملک میں براہ راست ٹیکس بڑھا یا جائے۔ لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے لئے اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہوسکے اورآئندہ مالی سال کے لئے پہلے سے زیادہ اقتصادی اہداف غیر مناسب ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے کاروباری و سرمایہ کار برادری کو کوئی مراعات نہیں دیں بلکہ پانچ برآمدی سیکٹرز پر زیر و ریٹڈ ریجیم ختم کردی ہے اس کے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ ڈالر مزید مہنگا ہوگا اور پاکستان کے ذمے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…