جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

زرداری کا بچنا نا ممکن،ایک نہیں کتنے افراد وعدہ معاف گواہ بن گئے؟پیپلز پارٹی کی صفوں میں ہلچل مچ گئی‎

datetime 11  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد ان پر بڑی مشکل آن پڑی ، بچ نکلنا ناممکن ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس وقت نیب کی حراست میں ہیں ، تفصیلات کے مطابق ان کیخلاف 80سے زائد گواہ جبکہ کئی وعدہ معاف گواہ بننے کو بھی ہو گئے ہیں۔ قومی اخبار کی شائع کر دہ رپورٹ کے مطابق

سابق صدر شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کیخلاف ہونیوالی تحقیقات کے حوالے سے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی آصف علی زرداری کیخلا ف منی لانڈرنگ سمیت دیگر مقدمات میں 80سے زائد افراد نے گواہیاں جبکہ کئی وعدہ معاف گواہ بننے کو بھی تیار ہو گئے ہیں ۔ دوسری طرف سابق صدر آصف علی زر داری نے اپنی گرفتاری پر کہاہے کہ چیئر مین نیب کی کیا مجال ہے ؟ سب حکومت کرتی ہے ، سلیکٹڈ وزیر اعظم کو کچھ پتہ نہیں ، سب وزیر داخلہ کروا رہا ہے ،میں نہیں ہونگا تو بلاول ہوگا ، بلاول نہیں ہوگا تو آصفہ ہوگی ۔ جو سیاست کریگا اس کو جیل جانا پڑیگا،نیب کو ختم کرنا چاہتے تھے ، اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔منگل کو سابق صدر آصف زرداری نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگوکی ۔ صحافی نے سابق صدر سے سوال کیا کہ جس طرح نواز شریف کو پارلیمنٹ سے آؤٹ کردیا گیا، کیا آپ پر بھی ہوئی فارمولا اپلائی کیا جارہا ہے۔ آصف علی زر داری نے جواب دیا کہ فرق کیا پڑے گا، میں نہیں ہونگا تو بلاول ہوگا،بلاول نہیں ہوگا تو آصفہ ہوگی۔سابق صدر آصف علی زر داری نے کہاکہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو کچھ نہیں پتہ ، سب وزیر داخلہ کروا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مشرف منتخب نہیں تھا اس لئے جیل جانے کو تیار نہیں۔آصف زرداری نے کہاکہ مشرف نے ووٹ نہیں مانگنے ،ہم نے ووٹ مانگنے جانا ہے۔آصف زرداری نے کہاکہ گرفتاری تھرڈ ورلڈ ممالک میں سیاست کا حسن ہے۔آصف زرداری نے کہاکہ میری گرفتاری پریشر ٹیکٹکس ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی کیا مجال، سب حکومت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جیل اور گرفتاری سیاست کا حسن ہے،جو سیاست کریگا اس کو جیل جانا پڑیگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نیب کو ختم کرنا چاہتے تھے لیکن اتفاق رائے نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…