جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کیلئے سانپ کی کھال سے چپل بناناچچا نور الدین کو مہنگا پڑ گیا، ایک گرفتار،کتنا بڑا جرمانہ اور کتنے سال قید کی سزا ہوسکتی ہے؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  جون‬‮  2019 |

پشاور (این این آئی)محکمہ وائلڈ لائف نے پشاور میں کپتان چپل بنانے والے چچا نورالدین کی دکان پر چھاپہ مار کر سانپ کی کھال سے بنی چپل برآمد کرتے ہوئے ایک کاریگر کو گرفتار کیا ہے۔گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کیلئے مشہور زمانہ کپتان چپل بنانے والے نور الدین چاچا اس مرتبہ ان کیلئے سانپ کی کھال سے خاص چپل تیار کر رہے ہیں جو انہیں عید پر تحفہ کے طور پر دی جائیگی۔

نور الدین چاچا نے بتایا تھا کہ اس مرتبہ عمران خان کے ایک چاہنے والے نعمان نامی شخص نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے کپتان کو خاص قسم کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے نعمان نے امریکا سے سانپ کی انتہائی خوبصورت کھال بھجوائی ہے۔رپورٹ کے بعد خیبر پختونخوا کا محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں آگیا اور اس نے اتوار کو چچا نورالدین کی دکان پر چھاپہ مار کر سانپ کی کھال سے بنی چپل برآمد برآمد کرلی جبکہ دکان سے ایک کاریگر کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کا کہنا ہے کہ سانپ کی کھال کا استعمال وائلد لائف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت سانپ کی کھال کے کاروبار، سپلائی اور استعمال کیلئے لائسنس کا حصول لازمی ہے۔ اگر لائسنس کے بغیر اس کے کاروبار میں ملوث افراد کو زیادہ سے زیادہ 2 سال قید اور 44 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے جبکہ کم از کم سزا ایک ہفتہ قید، 5 ہزار جرمانہ اور کھال کی مالیت ادا کرنا ہوگی۔ کھال کی مالیت اگر مجرم ادا نہ کرسکے تو مزید ایک ہفتہ قید کی سزا ہوگی۔حکام نے برآمد شدہ چپلوں کو ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دیا ہے جہاں اس بات کا تعین کیا جائیگا کہ آیا یہ واقعہ سانپ کی کھال سے بنی ہے یا نہیں۔ لیبارٹری کی رپورٹ میں تصدیق کے بعد چچا نورالدین کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…