جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ایک کھرب کا اضافی ٹیکس ۔۔۔ہرپاکستانی خاندان پر 47کتنا بوجھ پڑے گا؟ ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کا اہم انکشاف

datetime 2  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں میں سیاست کا بڑا اہم کردار ہے، اس کے مالکان کا سیاسی ایجنڈا ہوتا ہے، امریکہ کے پاس ووٹ کی صورت میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، یہ ہر ملک میں یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہمیں معیشت بچانی ہے تاہم 73 سالوں میں ان کے پاس کامیابی کی ایک کہانی بھی نہیں ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے وکی لیکس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو امریکی فوج بطور معاشی اسلحہ استعمال کرتی ہے کیونکہ اب ہتھیار بدل گئے ہیں جبکہ جنگیں جاری ہیں، امریکہ ان مالیاتی اداروں کو استعمال کرتا ہے اور اب ہمارے پاس آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہماری حالت ہی اتنی کمزور تھی۔انہوں نے کہاکہ معیشت کے اندر آگ ہم نے خود لگائی ہے، ہماری پالیسیوں سے لگی ہے، عالمی مالیاتی ادارے اس پر تیل چھڑکنے کیلئے آرہے ہیں، اگر ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوتا تو شرائط بھی آسان ہوتیں۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی ذمہ داری حکومتوں کی ہے جنہوں نے ملک کے معاشی حالات خراب کیے۔ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو دنیا میں کہتا ہے کہ عوام ٹیکس چور ہیں حالانکہ عوام بھاری ٹیکس دیتے ہیں۔ جب بھی حکومت ٹیکس ریٹ بڑھاتی ہے تو معیشت کی رفتار سست ہوجاتی ہے، عوام ٹیکس دے کر خزانے بھرتے ہیں جنہیں حکمران خالی کردیتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک کھرب کے اضافی ٹیکس کا مطلب ہے کہ ہرپاکستانی خاندان پر 47 ہزار روپے کا بوجھ بڑھے گا، کمپنیوں کے منافع میں کمی آئیگی، معیشت کی رفتار سست ہوگی تو بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔فرخ سلیم نے کہا کہ 37 سالوں میں 21 ممالک کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بجٹ خسارے میں کمی کیے بغیر ٹیکس بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ خسارے میں کمی کے لیے اخراجات میں کمی لانا ہوگی اور گیس چوری کو روکنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…