ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جج کو کرسی مارنے پر سزا پانے والے وکیل کی سزا کالعدم قرار ، رہا کرنے کا حکم

datetime 29  مئی‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن )لاہورہائیکورٹ نے جج کو کرسی مارنے پر سزا پانے والے وکیل عمران منج کی سزا کا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے کر رہائی کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ ایڈووکیٹ عمران منج نے 25 اپریل کو عدالت میں سول جج خالد محمود وڑائچ کو کرسی مارکر سر پھاڑ دیا تھا جس پر فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو

مجموعی طور پر 18 برس قید کی سزا سنائی تھی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمران منج کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 جون کو مقدمہ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ملزم عمران منج کی طرف سے برہان معظم ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ وہ ایک ویڈیو چل رہی جس میں ماں بہن کی گالیاں دی جا رہی ہیں، وہ کون صاحب ہیں کیا وہ آپ کا حصہ نہیں۔برہان معظم نے کہا کہ گالیاں دینا قابل مذمت ہے، ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان وکلا کے لائسنس کینسل کر دیے گئے ہیں۔جس پر عدالت نے اظہار ہرہمی کرتے ہوئے کہا کہ سر میں کرسی مارنا توہین ہوتی ہے؟ از خود نوٹس لیں گے، ان کو عدالت میں پیش کریں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ 10 برس میں کوئی ایک فیصلہ بھی متعصب ہو کر لیا ہوتو بتائیں۔انہوں نے کہا کہ ادارے میں صرف جج صاحباب ہیں یا اس میں وکلا شامل ہیں؟ آپ مذکورہ شخص کے خلاف کیا ایکشن لیا، مکمل رپورٹ پیش کریں، اور بتائیں کہ کتنے لوگ ہیں۔جس پر اپیل کنندہ کے وکیل نے بتایا کہ محبوب وٹو کا لائسنس کر دیا ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تالیاں بجانے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی؟

وکیل نے بتایا کہ وکلا کے خلاف کارروائی کے لیے ہمارا اپنا ادارہ ہے۔جس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ کا ادارہ ہائی کورٹ سے بالاتر ہے؟ مجھے ان تالیاں بجانے والوں کے نام پیش کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی پہلے یہ لفظ سنا تھا کہ وکلا گردی؟ ہم نے ہزار دفعہ کہا کہ چند وکلا نے عدالتوں کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…