بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

عمران خان ایک بھینس فروخت کرنے کوبھی بچت سمجھتے ہیں۔۔۔!!! ڈالر کنٹرول کیسے کیا جائے؟حکومت کو آسان اور مفت مشورہ دیدیا گیا

datetime 19  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئررہنما اورسابق گورنرسندھ ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ عمران خان ایک بھینس فروخت کرنے کوبھی بچت سمجھتے ہیں، حکومت کو معاشی مسائل سے نکلنے کے لیے اخراجات کم کرنے چاہئیں لیکن اس کی رنگ رلیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ 30 ماہ میں32 ارب ڈالر مارکیٹ میں پھینکے تاکہ روپے کی قیمت برقرار رہے۔ ڈالر کو اس طرح نہیں روکا جاتا اس کی قیمت قابو میں رکھنے کا ایک ہی طریقہ حکومتی اخراجات میں کمی ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف امریکہ میں ڈالر کی قیمت حکومت کنٹرول نہیں کرتی باقی ہر جگہ اسے حکومتی ادارے ہی طے کرتے ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے پیکیج لینے کے بعد جو راستہ اختیار کیا وہ ملک اور قوم کے لیے مضر ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا لیکن درآمدات کم ہوئی ہیں۔ حکومت درآمدات کو بھی ایک حد سے زیادہ کم نہیں کر سکتی۔محمدزبیرنے کہا کہ حکومت بجٹ سے پہلے اپنے اخراجات کم کرے، اگر ایسا نہ ہوا تو روپے پر دبائو برقرار رہے گا۔ اس وقت مارکیٹ میں عدم توازن بڑھ گیا ہے لیکن آپ اسے روک بھی نہیں سکتے۔شرح سود میں اضافے کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنے گا اور کاروباری سرگرمیاں مزید کم ہو جائیں گی۔سابق گورنرسندھ نے کہاکہ35 لاکھ ملازمین کی تنخواہیں دو بار دگنی کی گئی ہیں اور تقریبا 3.5 لاکھ سرکاری ایئرکنڈیشنز چلتے ہیں، ان لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…