پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس نادہندگان کی مصدقہ معلومات حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کااستعمال،ایک لاکھ 49ہزار اکاؤنٹس میں کتنے ارب ڈالرز موجود؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کی مصدقہ معلومات حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے جو اپریل میں کام شروع کر دے گا ،ٹیکس کی شرح کی بجائے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ،پاکستان کا ٹیکس سسٹم پیچیدہ ہے جسے آسان بنا نا ہوگا،ایف بی آر کے اختیارات پر نظرثانی کررہے ہیں ،

ایک لاکھ 49ہزار اکاؤنٹس کا پتہ چلا ہے ان اکاؤنٹس ہولڈرز کے 12 ارب ڈالر ز بیرون ملک موجود ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر سیدالماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل ،سابق صدور مصباح الرحمن، محمد علی میاں، سہیل لاشاری، عبدالباسط، رحمت اللہ جاویدسمیت دیگر بھی موجود تھے ۔وزیر مملکت ریو نیو حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کیخلاف ہیں ،ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر عام آدمی پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سمگلنگ کی شرح بڑ ھ گئی ہے جس پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نادہندگان کی مصدقہ معلومات حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے،جس کا اپریل تک اطلاق کرکے نادہندگان کیخلاف شکنجہ کس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ہرسال 4ہزار ارب روپے کے قریب ٹیکس جمع کیا جاتا ہے جس میں براہ راست ٹیکسز کی شرح 40فیصد ہے اور60فیصد ٹیکس بالواسطہ جمع کیا جاتا ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ برانڈرتھ روڈ پراحتجاج کرنے والی بزنس کمیونٹی کیخلاف ایف آئی آرپولیس کا غلط اقدام ہے، صوبائی حکومت سے ایف آئی آر خارج کرانے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایز آف ڈئنگ بزنس کیلئے صدر لاہور چیمبر سید الماس حیدر کی سفارشات کو اہمیت دی گئی ہے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے وفاقی وزیر کو اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبات پیش کئے ۔لاہور چیمبر کے صدر سید الماس حیدر نے کہا کہ 31 مارچ تک ٹیکس گزاروں کو موقع دیا گیا ہے جو درست فیصلہ ہے۔گزشتہ مالی سال 3842ارب کا ٹیکس اکٹھا ہوا،1536ارب روپے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں جمع ہوئے،تنخواہ دار طبقے نے صرف 133ارب روپے ادا کیے ،ٹیکس سسٹم کوشفا ف بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ،کاروباری طبقہ ملکی ریونیو کا 99 فیصد سے زائد ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بزنس کمیونٹی کے ٹیکس ریفنڈز فوری واپس کیے جائیں ،ایف بی آر ایک کروڑ سے کم والوں کے ریفنڈز فوری ادا کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…