بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ہندوستان کی جانب سے رات کی تاریکی میں جارحانہ حملہ ، ہمارے دفاعی ادارے ہوائی حملے سے کیوں غافل رہے؟مولانافضل الرحمان نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ہندوستان کی جانب سے رات کی تاریکی میں کئے گئے جارحانہ حملے کو بزدلانہ اور شرم ناک عمل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ملک کی دفاعی قوتیں چوکس ہوجائیں،ملکی سرحدوں کی حفاظت کریں ، قوم آپ کے شانہ بشانہ ہے ،اقوام متحدہ و دیگر بین الاقوامی ادارے اور ان کے قوانین کہاں ہیں ، ہمارے دفاعی ادارے ہوائی حملے سے کیوں غافل رہے، فی الفور پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور

قومی سلامتی کے ادارے پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ لاڑکانہ دودائی روڈ میں ختم بخاری کی پروقار تقریب سے خطاب کے دوران کیا ، اس موقع پر مولانا امجد خان ، مولانا راشد محمود سومرو ،قاری محمد عثمان، ،مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، علامہ ناصر خالد محمود سومرو ، مولانا عبداللہ مہر سومرانی، محمد اسلم غوری، عبدالرزاق عابد لاکھو، مولانا عبداللہ جرارپہوڑ، مولانا رمضان پھلپوٹو، سمیع سواتی،حذیفہ شاکر،مولانا محبت کھوڑو و دیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے تقریب میں 51 علما کرام اور 57 حفاظ کرام کی دستار دستاربندی کی،مولانا فضل الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ مشکل کی اس گھڑی میں اللہ پاک ملک کی سلامتی کی دفاعی اداروں کو ملکی سالمیت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا کرے، جمعیت علما اسلام کا ایک ایک کارکن وطن عزیز پر جان قربان کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں ،مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جمیعت علما اسلام اور متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ملین مارچ کا سلسلہ جاری ہے، 28 مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی میں ناموس رسالت ملین مارچ میں بلوچستان سے لاکھوں لوگ شریک ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملین مارچ کا مقصد پاکستان کی اسلامی نظریات کا تحفظ کرنا ہے، اسلامی نظریات کی شہ رگ کو کاٹنے والے حکمرانوں کے ہاتھ کاٹ دینگے، مولانا فضل الرحمن نے فارغ التحصیل علما اور حفاظ کرام کو مبارکباد بھی پیش کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…