جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پاکستانی اگر کچھ کرنا چاہیں تو کوئی کام بھی ناممکن نہیں،ناروے کے انجینئرز ناکام، پی آئی اے انجینئرز نے بوئینگ طیارہ 3 گھنٹے میں ٹھیک کردیا،ماہرین ششدر

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

اوسلو/کراچی (این این آئی) ناروے کے انجینئرز کے انکار کے بعد قومی ایئرلائن کے انجینئرز نے یورپ میں سخت سردی کے باوجود مسافر طیارے کی مرمت کرکے اڑان کے قابل بنادیا۔تفصیلات کے مطابق ناروے میں اوسلو سے لاہور آنے والی پاکستان کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے)کی پرواز پی کے 752 کے طیارے بوئنگ 777 کے انجن میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے عملے نے ناروے کے مقامی انجینئرز سے انجن کی مرمت کی درخواست کی تاہم انہوں نے سخت سردی کے باعث مرمتی کام انجام دینے سے انکار کردیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انجینئرز کے انکار کے بعد حکام نے پی آئی اے پرواز کے ذریعے قومی ایئرلائن کے انجینئرز کو اوسلو روانہ کیا تھا تاکہ طیارے کی مرمت کرکے اسے اڑان کے قابل بنایا جاسکے، اس دوران مسافروں کو وقتی طور پر ہوٹل منتقل کردیا گیا۔پاکستانی انجینئرز نے اوسلو پہنچ کر غیر موافق موسم میں سخت سردی کے باوجود تین گھنٹے لگاتار محنت کرکے طیارے کے خراب انجن کی فنی خرابی دور کی اور اس کے بعد پرواز پی کے 752 کو لاہور روانہ کردیا۔پی آئی اے کے سی ای او ایئرمارشل ارشد ملک نے انجینئرز کے لیے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سخت سردی اور برفباری میں انجینئرز نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پی آئی اے کے طیارے کو اڑان کے قابل بنا کر پاکستانیوں کو واپس پہنچایا۔خیال رہے کہ پی آئی اے کے انجینئرز اس سے قبل بھی کئی کارنامے انجام دے چکے ہیں، گزشتہ برس مارچ میں قومی ایئرلائن کے انجینئرز سے نے اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اے-320 جہاز کا پہلا چیک اے مکمل کیا تھا۔ ناروے کے انجینئرز کے انکار کے بعد قومی ایئرلائن کے انجینئرز نے یورپ میں سخت سردی کے باوجود مسافر طیارے کی مرمت کرکے اڑان کے قابل بنادیا۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…