جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے احکامات،54اعلیٰ افسران میں سے 45 افسران زائد وصول تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند،9 نے انکارکردیا،دوٹوک اعلان

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (آ ئی این پی)افسران کی تنخواہوں پرازخودنوٹس کیس میں 54افسران میں سے 45زائد وصول تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند ہوگئے جبکہ 9 افسران نے اضافی وصول کی گئی تنخواہیں واپس کرنے سے انکار کردیا، عدالت نے انکار کرنے والے 9 افسران کو اضافی تنخواہیں تین ماہ میں واپس کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی پنجاب حکومت کی کمپنیز کے افسران کی تنخواہوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،

ڈی جی نیب لاہور نے عدالت میں رپورٹ پیش کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 54 میں سے 45 افسران زائد وصول کی گئی تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں جبکہ 9 افسران نے انکار کر دیا ہے ، اب تک 43 کروڑ 80 لاکھ روپے میں سے 32 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔چیف جسٹس نے اضافی وصول کی گئی تنخواہ واپس نہ کرنے پر ایم ڈی سیف سٹی اتھارٹی علی عامر ملک کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ گریڈ 21 کے افسر ہو کر ساڑھے چھ لاکھ تنخواہ وصول کر رہے ہیں، آپ کی تنخواہ ڈیڑھ دو لاکھ روپے بنتی ہے، اضافی رقم کس مد میں وصول کر رہے ہیں، آپ لوگوں نیملک کے ساتھ زیادتی کی ہے، ایک محکمے میں آپ کو خوش کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اتھارٹی اکبر ناصر خان بھی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی تنخواہ سے چھ گنا زائد تنخواہ کیوں وصول کی، تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک نئے پراجیکٹ پر کام کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ لوگوں نیدوسروں کے ساتھ مل کر عوام کاپیسہ لوٹاہے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اگر آپ کو اسی تنخواہ پر کسی محکمے میں بھیجا جاتا تو آپ اسی طرح کام کرتے۔ عدالت نے نو افسران کو اضافی تنخواہیں واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اضافی تنخواہیں تین ماہ میں واپس کر دیں، اگر تنخواہیں واپس نہ کی گئیں تو کارروائی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…