بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ،شہبازشریف،فواد حسن فواد اور احد چیمہ کیخلاف وعدہ معاف گواہ کون بنا؟تہلکہ خیز انکشاف

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آشیانہ ہائوسنگ سیکنڈل کا چرچا اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہے ۔اس سیکنڈل کے سلطانی گواہوں میں سے اگر کسی کے پاس سب سے زیادہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کا علم تھا تو وہ  پراجیکٹ ڈائریکٹر معظم اقبال سپرا تھا جس نے بطور ای ڈی او (EDO) فنانس کے تمام مالیاتی ضابطگیوں کی تفصیل حاصل کرلی تھی اس لیے اسے خاص طور پر پراجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر چنا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق معظم اقبال سپرا وہ اہم کلیدی کردار تھا،جس نے ساری کہانی کا بھانڈہ اس وقت پھوڑا جب اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں مالی بے ضابطگیوں پر کمیٹی اور احد چیمہ کو اس کا ممبر بنا دیا۔ جس پر سٹریٹیجک پلاننگ یونٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر ان کے ماتحت بلال قدوائی کو تو گرفتار کیا گیا مگر خدمات کے صلے میں معظم سپرا تو صرف ایک جگہ پر نیب کے استغاثہ میں دکھائی دیئے ہیں اور وہ بھی جب ان کی جگہ بلال قدوائی کام کر رہا تھا۔ معاملہ اس لیے بھی بہت سنجیدہ ہے۔ ساتھی افسران کے مطابق اگر اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر ہونے والی درخواست میں اتنی قانونی باریکیاں بیان ہوئی ہیں تو سلطانی گواہ بننے سے پہلے ہی کوئی سلطانی گواہ کا کردار ادا کر رہا تھا اور وہ صرف اور صرف سٹریٹیجک پلاننگ یونٹ کا ڈائریکٹر معظم سپرا ہی ہو سکتا تھا جو احد چیمہ کے بعد دوسرے نمبر کا سینئر ترین افسر تھا مگر ،نہ تو نیب اسے نامزد کرتی ہے نہ ہی اس کے ماتحت تمام افسران کے گرفتار ہونے کے باوجود اس کا نام ملزمان میں آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق معظم اقبال سپرا کو جب یہ شک ہوا کہ تحقیقاتی کمیٹی ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے اس کو رگڑا نہ نکال دے تو اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنے افسر بالا احد چیمہ کی داستان عام کر دی بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے ۔

شکایت کی نوعیت سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی گھر کا بھیدی ہے تو 38 نمبر پر گواہوں میں چھپے ہوئے اور معصوم بنے معظم اقبال سپرا نے اپنے ”محسن“ اور ”گارڈ فادر“ کے احد چیمہ پر ایسا جال پھینکا کہ معظم کے سب ساتھی پھنس گئے اور معظم گواہ بلکہ سلطانی گواہ نہیں ایک اہم گواہ بن گئے۔ کئی افسران کے نزدیک اور خصوصاً ن لیگ کے قریبی حلقوں میں یہ عام ہے کہ معظم اقبال سپرا کی مشکوک کارروائیاں احد چیمہ تک پہنچ چکی تھیں۔

اس لیے انہوں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو کہہ کر تحقیقات کمیٹی تشکیل دلائی تھی تاکہ جلد از جلد سارا ملبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر معظم اقبال سپرا کے دور میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو اس کے گلے میں فٹ کر دیا جائے مگر معظم اقبال سپرا نے ایسا جوابی حملہ کیا کہ آج وہی پھندا شہبازشریف کے لیے مصیبت بن گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے یہ بات بھی عام فہم ہے کہ ایک افسر کے اوپر اورنیچے کام کرنے والے گرفتار ہو جائیں اور صرف ایک پراجیکٹ کا ڈائریکٹر گواہوں کی فہرست میں پایا جائے تو ساتھی افسران کے مطابق یہ معظم اقبال سپرا سلطانی گواہ نہیں بلکہ مدعی مقدمہ ہونے کی دلیل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…