جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

”نیب کےیہ تین افسران تقرری کے معیار پر پورا نہیں اترتے اس لیے ان سے عہدہ واپس لیا جائے “ خصوصی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی ، آج کی سب سے بڑی خبر

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) نیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ، نیب کے تین افسران کی تقرری مطلوبہ معیار کے خلاف قرار، اپنے محکموں میں بھیجنے کی سفارش کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو میں خلاف ضابطہ تقرریوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ

میں جمع کروا دی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیب کے تین افسران اپنی تقرری کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے لہٰذا ان کو ان کے محکموں میں واپس بھیج دیا جائے ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نےنیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں پر ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد متعلقہ افسران کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔خصوصی کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ایک رکن اور نیب کے ڈائریکٹر جنرل شامل تھے۔سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں جن تین افسران کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں فرمان اللہ نیب خیبرپختونخواہ میں ڈائریکٹر تعینات ہیں ، نیب سے قبل فرمان اللہ خیبرپختونخوا کے فزیکل پلاننگ اینڈ ہائوسنگ ڈپارٹمنٹ اور فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی کا حصہ تھے۔خصوصی کمیٹی نے کہا کہ انہیں جوتجربے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تحقیقات، انکوائری، ریسرچ اور قانونی معاملات کا تجربہ نہیں ہے۔کمیٹی نےفرمان اللہ کو ان کے پرانے محکمے میں بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ دوسرے افسر فیاض احمد قریشی ہیں جو کہ نیب سکھر کے ڈائریکٹر ہیں ۔ یہ کراچی پورٹ ٹرسٹ سے نیب میں آئے تھےان کو بھی ان کے ادارے کی جانب سے جو تجربے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نیب میں متعلقہ ذمہ داری کیلئے اہل نہیں، کمیٹی نے تیسرے افسرایڈیشنل ڈائریکٹر نیب مبشر گلزار سے متعلق بھی یہی سفارش کی ہے تاہم مبشر گلزار اپنے محکمے میں واپس نہیں جاسکتے کیونکہ انہوں نے اپنے محکمے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…