جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

مفتی رفیع عثمانی کی جانب سے آسیہ مسیح کے فیصلے کو درست قرار دینے پر اشرف آصف جلالی بھی جلال میں آگئے ، مفتی اعظم پاکستان کے کھلے خط کاجواب دیدیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور( )تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺکے سربراہ،فقۂ اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل، مرکز صراطِ مستقیم کے شیخ الحدیث ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے اتوار 11نومبرکو روزنامہ جنگ میں آسیہ ملعونہ کیس کے فیصلہ سے متعلق مفتی رفیع عثمانی کے شائع ہونے والے کھلے خط پر اپنے تحفّظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرکز صراطِ مستقیم لاہور میں میڈیا کے احباب سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفتی محمد رفیع نے جن وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کی ہے وہ درست معلوم نہیں ہوتیں۔

ججز کے فیصلے میں جن شبہات کا ذکر کیا گیا ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو حد ساقط ہونے کی بنیاد بن سکے۔ جس دعویٰ کو ججز شبہات کی وجہ سے رد کرنا چاہتے ہیں اس دعویٰ کا تو ججز نے اپنے فیصلے میں خود بھی اقرار کیا ہوا ہے۔ گواہوں کے بیان میں وہ تضادات نہیں جو تضادات ججز کے فیصلے میں موجود ہیں۔ ہم نے فیصلے کو جذبات میں بہہ کر نہیں مضبوط دلائل سے رد کیا ہے اور اس پر چار گھنٹے دلائل دیے ہیں۔ مفتی محمد رفیع کا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات سے متعلق حد کو چوری کی حد پر قیاس کرنا بہت بڑی غلطی ہے جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق حدود کو عام حدود پر قیاس کرنے کی اجازت نہیں دی۔ شبہات کی وجہ سے حدود کا اٹھ جانابھی مطلق نہیں مقید ہے۔ مفتی محمد رفیع عثمانی نے ججز کی حمایت میں یہ تو کہہ دیا ’’کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ جو کیا ہے یونہی آنکھیں بند کر کے نہیں کیا ۔‘‘ لیکن جس طرف سے سپریم کورٹ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کی نشاندہی بھی ضروری تھی۔ قوم کے نام کھلے خط میں مفتی صاحب کا ناموسِ رسالت ﷺ جیسے حساس مسئلے پر صرف یہ کہہ دینا ’’ججز سے غلطیاں ہوئیں ہونگی‘‘ صرف یہ کہہ دینا مفتی صاحب کا منصب نہیں بلکہ یہ بتانا ضرور ی تھا کہ وہ کونسی غلطیاں ہیں جو ناموس رسالت ﷺ جیسے حساس مسئلہ پر ججز نے کی ہیں۔ جس کی وجہ سے قوم کا اور مفتی صاحب کے بقول ان کا دل دکھا ہے۔

سچ بات تو یہ ہے کہ فیصلہ کے وہ مقامات جو محتاجِ دلائل تھے ججز نے وہاں قرآن و سنت اور فقۂ اسلامی سے کوئی دلیل نہیں دی۔آئینی لحاظ سے بھی دلائل کی صورت حال بہت کمزور ہے ہاں ہم مفتی صاحب کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ فیصلہ پر نظرِ ثانی کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے ۔ ہم تو پہلے ہی یہ مطالبہ کر چکے ہیں بلکہ اس پر حکومت نے ہم سے معاہدہ بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…