جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

نواز شریف کیخلاف نیب کی درخواست منظور کر لی گئی!! عدالت سابق وزیراعظم کیلئے انتہائی بری خبر آگئی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)احتساب عدالت میں آج سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت ہوئی، عدالت نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے خلاف نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دیدی ۔ اس موقع پر نواز شریف کے وکلا اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں

کا تبادلہ اورجھگڑا بھی ہوا ۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ مستند ذرائع کے مطابق سوالنامہ پراسیکیوشن کو دیا جا چکا ہے، نیب کیسز میں پریکٹس رہی ہے کہ ملزم کو سوالنامہ دیا جاتا ہے، پیشگی سوالنامے میں سوالات کے علاوہ بھی عدالت جو پوچھنا چاہے پوچھ سکتی ہے۔جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا 342 کے بیان کا مقصد ہوتا ہے، عدالت نے ملزم کے بیان سے نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے، اگر پہلے سوالنامہ دیا جائے تو 342 کے بیان کا مقصد ختم ہو جاتا ہے، اس طرح تو ہم اپنے گواہوں کو بھی تیاری کرا کے لے آتے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا ملزم کو پیشگی سوالنامہ دینے پر ہمارے بڑے سنجیدہ اعتراضات ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا پھر ہمارا بھی بڑا سنجیدہ اعتراض ہے۔جج ارشد ملک نے اس موقع پر کہا آج اس معاملے کو حل کر لیتے ہیں، لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے، تفتیشی افسر کا بیان مکمل ہونے کے بعد پراسیکیوشن نے شواہد مکمل کرنے میں 20 دن لگائے۔خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے دس والیم ہیں اوپر سے 8 والیم عبوری اور ضمنی ریفرنسز کے بھی ہیں۔اس سے قبل دلائل کے دوران خواجہ حارث نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یو کے سنٹرل اتھارٹی کے ساتھ خط و کتابت نیب کے ظاہر شاہ نے کی تھی اور وہ عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہو چکے ہیں۔خواجہ حارث نے سوال اٹھایا کہ ظاہر شاہ کی گواہی کے ساتھ یہ دستاویزات کیوں پیش نہ کی گئیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہم نے ضمنی ریفرنس میں لکھا ہے کہ خطوط کا جواب آنے پر دستاویزات دیں گے جس پر خواجہ حارث نے کہا اگر یہ دستاویزات پیش کرتے ہیں تو ساتھ متعلقہ گواہ کو بھی پیش کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے ان دستاویزات سے فلیگ شپ کے تفتیشی کا کیا تعلق ہے، یہ نیب نے نہیں بتایا، دستاویزات کے ساتھ تفتیشی افسر کا تعلق عدالت

خود فرض نہیں کر سکتی، فاضل جج نے استفسار کیا 8 ماہ کی تاخیر سے کیوں یہ دستاویزات پیش کی جا رہی ہیں۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا کہ ان کے مؤکل سے پوچھا جانے والا سوالنامہ نیب کے پاس موجود ہے، یہ ثابت کریں کہ اگر خبر غلط ہے تو میں الفاظ واپس لوں گا، یہ وہ پراسیکوٹر ہیں جو میڈیا پر بات کرتے ہیں گالیاں دیتے ہیں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی

نے کہا ویڈیو سے ثابت کریں میں نے کون سے گالی دی ہے؟خواجہ حارث نے کہا واجد ضیاء آدھا آدھا گھنٹہ ریکارڈ دیکھ کر جواب لکھواتے رہے ہم نے اعتراض نہیں کیا، ہماری باری پر نیب کو پیٹ میں درد ہوجاتا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا آپ ذاتی حملے کررہے ہیں، ہم قانون پر عمل کریں گے، فاضل جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا یہ لڑائی والی بات نہیں اب ختم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…