منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

فضل الرحمان کی بغاوت، دھماکہ خیز اعلان، بھٹو پھانسی، نواز شریف کی نااہلی تم لوگوں نے قبول نہیں کی تو پھر آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ کیسے مان لیا؟ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو آئینہ دکھا دیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے عقائد اور آزادی پر سودا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں، تم نے یورپ کے دباؤ میں فیصلہ کیا ہے، تم سب ایک پیج پر تھے، امریکہ اور مغربی دنیا کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے تم سب اس کے سامنے جھک گئے ہو، لیکن میں آج آپ کے سامنے اپنے کچھ دوستوں کو بھی مخاطب کرنا چاہتا ہوں،

آج جب قوم ایک صف پر ہے اور میدان عمل میں ہے ایسے وقت میں ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ ہے اس پر عمل ہونا چاہیے، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ اسی سپریم کورٹ نے کیا تو کیا پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کو قبول کیا اور اسی سپریم کورٹ نے جب میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ دیا، کیا مسلم لیگ (ن) نے اس فیصلے کو قبول کیا؟ آپ کی قیادت کے خلاف ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے آپ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں توپھر میں کیسے قبول کر لوں،واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے لئے سروں پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، دس سال سے پکار رہا ہوں کہ مغربی ایجنڈا لاگو کیا جارہا ہے جس سفر کا آغاز کیا ہے یہ اب رکے گا نہیں۔ ذوالفقار بھٹو کے خلاف اور ن لیگ کے خلاف فیصلوں کو قبول نہیں کیا گیا تھا،پی ٹی آئی نے خود ملک بند کرنے کے اعلانات کیے تھے، حکمران ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔پشاورمیں احتجاجی جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان دھمکیاں نہ دیں،میں جنرل نیازی کے خاندان میں پیدا نہیں ہوا،فیصلہ بہادری کی بنیاد پر نہیں بزدلی کی بنیاد اورمغربی دباو میں کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ قوم سے تصادم فائدہ میں نہیں ہوگا، تحفظ ناموس رسالت کے لئے سروں پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، دس سال سے پکار رہا ہوں کہ مغربی ایجنڈا لاگو کیا جارہا ہے جس سفر کا آغاز کیا ہے یہ اب رکے گا نہیں، احتجاجی جلسے میں مختلف مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،اس دوران جی ٹی روڈ کو فردوس چوک کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…