پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

دھرنوں ،مظاہروں کاتیسرا دن،بات بڑھ گئی،اب کیا ہوگیا؟ ایسی خبر کہ عوام کے ہوش ہی اُڑ گئے

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)مذہبی تنظیموں کے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث معمولات زندگی مسلسل تیسرے روز بھی بری طرح متاثر رہے ،سپلائی نہ ملنے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ، دکانداروں نے قلت کو جواز بناتے ہوئیسبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے گزشتہ روز بھی مختلف شاہراہوں سمیت داخلی اور خارجی راستوں کو بند رکھا گیا

جس کی وجہ سے نظام زندگی معطل رہا ۔پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق داخلی راستوں کی بندش کی وجہ سے آئل ٹینکرز شہر میں داخل نہیں ہوسکے ۔شہر کے95فیصد پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے جو آج ہفتہ تک کیلئے کافی ہوگا تاہم اگر اگلے روز تک ڈپو سے ٹینکرز نہ نکلے تو قلت پیدا ہونے کا امکان ہے اور پیٹرول ختم ہونے کی افواہیں پیٹرول بحران پیدا کرسکتی ہیں۔شہر میں گزشتہ روز کئی پیٹرول پمپس بند رہے جبکہ افواہوں کے باعث شہریوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔داخلی اور خارجی راستوں کی بندش کی وجہ سے منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی معمول کے مطابق سپلائی نہیں ہو رہی ۔دکانداروں نے سبزیوں او رپھلوں کی قلت کو جواز بناتے ہوئے من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق راستوں کی بندش کی وجہ سے مارکیٹوں میں آٹے کی سپلائی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں آٹے کی قلت کے خدشات ہیں۔علاوہ ازیں گزشتہ روز بھی شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں جن میں سرکلر روڈ، لوہا مارکیٹ ،شاہ عالم ، رنگ محل کی مارکیٹیں، برا نڈرتھ روڈمارکیٹ، لنڈا بازار، نولکھاٹائر مارکیٹ، سوہا بازار، کریم بلاک ، مون مارکیٹ ،سٹیل شیٹ مارکیٹ، اکبر ی منڈی ، کیمیکل مارکیٹ، بیرون دہلی گیٹ، اعظم کلاتھ مارکیٹ، انار کلی ،بادامی باغ، اردو بازار، پیپر مارکیٹ مکمل بند رہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…