پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

دھرنوں ،مظاہروں کاتیسرا دن،بات بڑھ گئی،اب کیا ہوگیا؟ ایسی خبر کہ عوام کے ہوش ہی اُڑ گئے

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)مذہبی تنظیموں کے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث معمولات زندگی مسلسل تیسرے روز بھی بری طرح متاثر رہے ،سپلائی نہ ملنے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ، دکانداروں نے قلت کو جواز بناتے ہوئیسبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے گزشتہ روز بھی مختلف شاہراہوں سمیت داخلی اور خارجی راستوں کو بند رکھا گیا

جس کی وجہ سے نظام زندگی معطل رہا ۔پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق داخلی راستوں کی بندش کی وجہ سے آئل ٹینکرز شہر میں داخل نہیں ہوسکے ۔شہر کے95فیصد پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے جو آج ہفتہ تک کیلئے کافی ہوگا تاہم اگر اگلے روز تک ڈپو سے ٹینکرز نہ نکلے تو قلت پیدا ہونے کا امکان ہے اور پیٹرول ختم ہونے کی افواہیں پیٹرول بحران پیدا کرسکتی ہیں۔شہر میں گزشتہ روز کئی پیٹرول پمپس بند رہے جبکہ افواہوں کے باعث شہریوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔داخلی اور خارجی راستوں کی بندش کی وجہ سے منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی معمول کے مطابق سپلائی نہیں ہو رہی ۔دکانداروں نے سبزیوں او رپھلوں کی قلت کو جواز بناتے ہوئے من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق راستوں کی بندش کی وجہ سے مارکیٹوں میں آٹے کی سپلائی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں آٹے کی قلت کے خدشات ہیں۔علاوہ ازیں گزشتہ روز بھی شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں جن میں سرکلر روڈ، لوہا مارکیٹ ،شاہ عالم ، رنگ محل کی مارکیٹیں، برا نڈرتھ روڈمارکیٹ، لنڈا بازار، نولکھاٹائر مارکیٹ، سوہا بازار، کریم بلاک ، مون مارکیٹ ،سٹیل شیٹ مارکیٹ، اکبر ی منڈی ، کیمیکل مارکیٹ، بیرون دہلی گیٹ، اعظم کلاتھ مارکیٹ، انار کلی ،بادامی باغ، اردو بازار، پیپر مارکیٹ مکمل بند رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…