پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مظاہرین نے حد پار کی توہم لوگ کیا کریں گے، ڈی جی رینجرز نے واضح اعلان کر دیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی) ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ مظاہرین نے حد پار کی تو سندھ اور وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل کریں گے،آسیہ بی بی کی بریت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے اور امید ہے یہ جلد بہتر ہوجائیگی۔

وہ جمعرات کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ستمبر 2013 سے اب تک کراچی دنیا کے چھٹے خطرناک شہر سے 67 ویں نمبر پر آگیا ہے جب کہ 2017 اور 2018 میں دہشت گردی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،عام انتخابات والے دن کراچی میں بدامنی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا۔میجر جنرل محمد سعید نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار شہر میں کاروبار کی بہتری کے لیے اپنے خون اور جانوں کی قربانی کی شکل میں حصہ ڈال رہے ہیں، رینجرز کراچی کی معیشت اور کاروبار میں ایک خاموش اسٹیک ہولڈر ہے جس طرح پانچ سال میں کراچی کے حالات نارمل ہوئے اس کی مثال بھی دنیا میں نہیں ملتی۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں 70 فیصد انڈر میٹرک نوجوان ملوث پائے جاتے ہیں، یہاں آباد برادریوں کو جرائم میں ملوث نوجوانوں اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔آسیہ بی بی کی بریت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ڈی جی رینجرز نے کہا کہ یہ صورتحال صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے اور امید ہے صورتحال جلد بہتر ہوجائے گی تاہم احتجاجی مظاہرین نے حد پار کی تو سندھ اور وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل کریں گے۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ مظاہرین نے حد پار کی تو سندھ اور وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل کریں گے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…