جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نماز جمعہ اسلام آباد میں کہاں ادا کی جائے گی؟ ممتاز علماء کرام کے اعلان نے اسلام آباد انتظامیہ میں کھلبلی مچا دی

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) ممتاز علما کرام اور درجنوں مذہبی تنظیمات کے قائدین نے جمعہ سپریم کورٹ کے سامنے ادا کرنے کا اعلان کردیا ،مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی امامت کے فرائض سرانجام دیں گے ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر دن گیارہ بجے عاشقانہ مصطفی نیشنل پریس کلب کے سامنے سبزہ زار میں جمع ہوں گے جہاں سے.جلوس کی صورت میں سپریم کورٹ کے لیے روانہ ہوں گے’

علما کرام کے نمائندہ اجلاس میں اہم فیصلے ،احتجاج کو پرامن,منظم اور مسلسل جاری رکھنے کے عزم کا اظہارتفصیلات کے مطابق ملک کی مختلف دینی جماعتوں اور اداروں کے سربراہوں اور جڑواں شہروں کے ممتاز علما کرام کا اہم اجلاس جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں ہوا جس میں مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی,مولانا ظہور احمد علوی,مولانا نذیر فاروقی,مولانا عبد الغفار,شیخ الحدیث مولانا عبدالروف,مولانا قاضی مشتاق,مولانا عبدالکریم,مولانا عبدالحمید صابری,مولانا مفتی عبدالسلام,مولانا شبیر کشمیری,مولانا عبدالقدوس محمدی,مولانا شریف ہزاروی,مولانا محمد طیب فاروقی,مولانا عبدالوحید قاسمی سمیت علما کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر علما کرام نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا اور اس فیصلے کو پاکستان کی سلامتی اور مستبقل کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ کل نماز جمعہ سپریم کورٹ کے سامنے ادا کی جائے گی-ممتاز روحانی اور علمی شخصیت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی جمعہ کی امامت کے فرائض سرانجام دیں گے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم پر تمام تنظیمات اور اداروں کے وابستگان دن گیارہ بجے نیشنل پریس کلب کے سامنے سبزہ زار میں جمع ہوں گے جہاں سے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا جائے گا اور نماز جمعہ سپریم کورٹ کے سامنے ادا کی جائے گی-

اجلاس میں احتجاج کو پرامن اور منظم طریقے سے تا دیر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا_اجلاس میں جمیعت علما اسلام,عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت,اہلسنت والجماعت,پاکستان علما کونسل,پاکستان شریعت کونسل,جمعیت اہلسنت,تحریک ختم نبوت سمیت دیگر تنظیموں اور تمام دینی مدارس کے نمائندگان نے شرکت کی اس موقع پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دی.گئیں جو کل کے احتجاج کی دعوت اور انتظامات کی ذمہ داریاں نبھائیں گی-دوسری طرف اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک لبیک کے رہنما مولانا عنایت الحق کو ایک مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور دھرنے کیلئے این او سی حاصل کرنا ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے دارالحکومت نے اسلام آباد کی ضلعی حدود میں دفعہ 144نافذ کر دی ہے۔ جس کے تحت کوئی بھی شخص سیاسی یا مذہبی اجتماع یا دھرنا نہیں دے سکتا۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق این او سی کے بغیر اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت نہیں ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب موٹر پولیس کی جانب سے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے تمام طرح کی ٹریفک کے لیے کھلا ہے۔ قومی شاہراہیں خانیوال، میاں چنوں، کسووال، کسی بھی قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافر کسی بھی پریشانی میں ہیلپ لائن نمبر 130 پر کال کر سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…