جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سوئس بینکوں میں پڑے 2سو ارب ڈالر کے بدلے وہاں کی حکومت پاکستان سے کونسا معاہدہ کرنا چاہتی تھی جسے نواز دور کے کس اہم افسر نےمسترد کر دیا جو آج کپتان کی حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہے؟حیران کن انکشاف

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ارشاد بھٹی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ کیا کیا بتایا جائے، نواز دور، چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ایک سمری کابینہ کو بھجوائی کہ میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق ہمارے 2سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے، اسحاق ڈار نے یہ بات اسمبلی میں کر دی، ملک میں بھونچال آگیا، وفاقی کابینہ نے منظوری دی کہ

جاؤ سوئس حکام سے بات کرو، اشفاق احمد خان کی سربراہی میں 3رکنی وفد بنا، یہ جنیوا پہنچا، مذاکرات ہوئے، سوئس حکام نے رضا مندی ظاہر کردی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار، مطلب تمام پاکستانیوں کے نام، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے، معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دیدیں اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہیں انکے منافع پر 10کے بجائے 5فیصد ٹیکس لگا دیا جائے، تب سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو، ڈھائی ملین ڈالر تھی، مطلب ایک ڈیڑھ لاکھ ڈالر ٹیکس رعایت دینا تھی، بدلے میں سوئس حکومت نے ہمیں 2سو ارب ڈالر کی معلومات دینا تھیں، وفد خوشی خوشی واپس آیا، مگر حیرت انگیز طور پر طارق باجوہ نے نہ صرف ٹیکس رعایت کو بنیاد بنا کر فرمادیا کہ یہ معاہدہ منظور نہیں بلکہ چند دنوں بعد الٹا وفد کے تینوں اراکین کو شوکاز نوٹسز دیکر کھڈے لائن لگا دیا۔ آگے سنئے:نواز حکومت کے ایف بی آر چیئرمین طارق باجوہ جو آج گورنر اسٹیٹ بینک، اب اسد عمر سے کہہ چکے کہ ’’کوئی 2سو ارب ڈالر نہیں پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، بس اس وقت مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، اندازہ لگائیں چیئرمین ایف بی آر ایک حکومت سے کہے کہ ہمارے 2سو ارب ڈالر پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، دوسری حکومت سے کہہ دے ’’غلطی ہو گئی، وہاں پیسے نہیں پڑے ہوئے‘‘ اور موصوف کل بھی مزے میں، آج بھی موجیں کر رہے، کیا قسمت پائی طارق باجوہ نے، پچھلی حکومت خوش، موجودہ حکومت خوش اور وہ کرپٹ مافیا جنہوں نے وہاں پیسے رکھے ہوئے وہ بھی خوش، ہے نا فلمی بلکہ ویری فلمی کہانی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…