جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اسرائیلی طیارے کی اسلا م آباد آمد کی افواہ ،جس انداز میں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بگولہ ہوئے، اس کا مطلب ہے کہ ۔۔۔! احسن اقبال پھر بول پڑے،سنگین الزام عائد کردیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی افواہ پر سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کی جانب سے وضاحت کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں پاکستان کی جعلی فکر نہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا اور کہا ہے کہ ہم نہ مودی سے خفیہ مذاکرات کریں گے اور نہ ہی اسرائیل سے، ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو ایوی شارف نامی ایک اسرائیلی صحافی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ایک اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا تاہم وہ طیارہ دارالحکومت تل ابیب سے براہ راست اسلام آباد نہیں پہنچا بلکہ طیارے کے پائلٹ نے چالاکی کرتے ہوئے پہلے اسے 5 منٹ کیلئے عمان میں لینڈ کروایا اور پھر وہاں سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری۔اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ طیارہ اسرائیل میں رجسٹرڈ نہیں تھا اور اسے کینیڈا کی طیارہ ساز کمپنی بمبار ڈیئر نے بنایا تھا تاہم اسرائیلی صحافی کی مذکورہ ٹوئیٹ کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں اور افواہوں کا ایک سیلاب آگیا جس کے بعد سابق وزیر داخلہ اور لیگی رہنما احسن اقبال نے بھی اپنے پیغام میں حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کر ڈالا۔احسن اقبال نے بی بی سی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ حکومت حقیقی صورتحال فوری طور پہ واضح کرے۔احسن اقبال کی اس ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے لکھاکہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان، نواز شریف ہے اور نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو۔ ہم نہ مودی سے خفیہ مذاکرات کریں گے اور نہ اسرائیل سے۔ چوہدری فواد حسین نے کہاکہ آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لیے جعلی فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔وزیر اطلاعات کی اس ٹوئیٹ پر احسن اقبال نے جواب الجواب میں کہا کہ جس انداز میں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بگولہ ہوئے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، لہذا دونوں ممالک کے رجسٹرڈ طیارے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں سفر نہیں کرسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…