جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ایک کمپنی والے مجھ سے سفارش کروا رہے ہیں۔۔ چیف جسٹس نے دودھ کمپنی کے مالک اپنے ہی بہنوئی سے بھری عدالت میں سفارش کروانے پر کیا سلوک کیا؟نئی تاریخ رقم ہو گئی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک) ڈبوں میں ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دریافت کیا کہ کیا ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے کہ یہ دودھ ہے یا نہیں؟ عدالتی معاون نے بتایا کہ رپورٹس کے مطابق کچھ ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے یہ دودھ نہیں۔ ایک کمپنی والے مجھ سے سفارش کروا رہے ہیں۔ اس کمپنی کی بنیادی سروس ہی دودھ ہے، ٹی وائٹنر کے زمرے میں نہیں آتا۔

کمپنی والے کہاں ہیں یہ بتائیں سفارش کیوں کروائی۔ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ڈبوں میں ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دریافت کیا کہ کیا ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے کہ یہ دودھ ہے یا نہیں؟ عدالتی معاون نے بتایا کہ کچھ رپورٹس آئی ہیں کہ ڈبوں پر لکھا جا رہا ہے یہ دودھ نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک کمپنی والے مجھ سے سفارش کروا رہے ہیں۔ اس کمپنی کی بنیادی سروس ہی دودھ ہے، ٹی وائٹنر کے زمرے میں نہیں آتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنی والے کہاں ہیں یہ بتائیں سفارش کیوں کروائی۔ نجی دودھ کمپنی کا مالک عدالت میں پیش ہوگیا۔چیف جسٹس نے کہا عدالت میں معافی مانگیں، آپ رشتے میں میرے بہنوئی ہیں مگر سفارش کیوں کروائی۔ سفارش کروانے کی بیماری پڑ چکی ہے۔چیف جسٹس کے حکم پر نجی کمپنی کے مالک نے معافی مانگ لی۔انہوں نے کہا کہ آپ کا کیس میرٹ پر ہی حل کریں گے۔ عدالت نے نجی کمپنی سے متعلق بنیادی سورس دودھ ہی ہونے پر نمٹا دیا۔خیال رہے اس سے قبل چیف جسٹس نے ڈبے کے دودھ پر نوٹس لیتے ہوئے کراچی میں دستیاب دودھ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس نے صوبہ پنجاب میں بکنے والے ڈبوں کے دودھ کی بھی جانچ کروائی تھی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پیکٹ کے دودھ سے اب یوریا، بال صفا پاڈر اور غیر معیاری اشیا کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…