پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی سعودی عرب کو ثالثی کی پیش کش یمن کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔۔ معاملہ کچھ اور ہی نکلا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنےدورہ ملائشیا اور چین کے سلسلے میں تیاریوں میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو شاندار معاشی امدادی پیکیج دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے یمن تنازعہ پر

سعودی عرب کو ثالثی کی پیشکش کی ہےجسے قبول کرتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کو بطور ثالث کردار بھی دیدیا ہے۔ تاہم اب یمن جنگ اور پاکستان کے ثالثی کے کردار کے حوالے سے پاکستان میں موجود یمنی سفارتخانے کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آگیا ہے جس میں ان خبروں کی تردید کر دی ہے اور وضاحت کی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے یمن بحران کے حل کے سلسلہ میں ثالثی کی پیشکش سعودی عرب اور یمن میں معاملات کو بہتر بنانے کے لیے نہیں کی بلکہ بحران حوثی باغیوں اور یمن حکومت کے درمیان ہے۔باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یمنی حکومت کئی مرتبہ باغیوں کو مذاکرات کی پیشکش کرچکی ہےبلکہ بحران حوثی باغیوں اور یمن حکومت کے درمیان ہے۔باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یمنی حکومت کئی مرتبہ باغیوں کو مذاکرات کی پیشکش کرچکی ہے لیکن انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔حکومت اب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کا پُر امن حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہے۔ سعودی عرب اور دوسرے دوست ملکوں نے ہماری حکومت کی درخواست پر فوجی مداخلت کی اور ان کی کوشش ہے کہ ملک میں قانونی حکمرانی قائم ہوجائے۔یمن کے سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے یمن بحران کے حل کے سلسلہ میں سعودی عرب اور یمن میں معاملات کو بہتر بنانے کے لیے نہیں کی بلکہ بحران پر حوثی باغیوں اور یمن حکومت کے درمیان ثالثی کی پیشکش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…