پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے شہرمیں زیر زمین پانی وافر مقدار میں نکالنے کے باعث زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر دھنسے لگی،زمین کمزور پڑ گئی زلزلہ دگنی تباہی کا باعث بن سکتا ہے، ماہرین کی ٹیم کے چشم کشا انکشافات 

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

کوئٹہ(آن لائن )کوئٹہ میں زیر زمین پانی کا وافر مقدار میں نکالنے کے باعث زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر دھنسے لگی کوئٹہ کی زمین کمزور پڑ ھ گئی زلزلہ دگنی تباہی کا باعث بن سکتا ہے کوئٹہ کی زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر بیٹھنے لگی زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لئے ڈیمز کی تعمیر نا گزیر ہے جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ30لاکھ آبادی پر مشتمل تباہی کی طرف گامزن ہے

ماہرین کی 3 رکنی ٹیم کے جدید سائنسی تحقیق میں چشم کشا انکشافات زمین دھنسے کی وجہ زیر زمین پانی کا تیزی سے نکالے جانا ہے ماہرین ارضیات دین محمد کاکڑ نے بتایا کہ 116 سینٹی میٹر زمین بیٹھنے کا ڈیٹا جی پی ایس سے ملا ہے پانی زیر زمین محفوظ سطح سے بھی زیادہ نکالا جا چکا ہے تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال زمین 10 سینٹی میٹر دھنسے لگی جس کے باعث خوف وہراس بھی پھیل گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس حوالے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تو آئندہ چند سالوں میں کوئٹہ کی زمین مزید دھنسے لگے گی ماہرارضیات دین محمد کاکڑ نے بتایا کہ اب بھی وقت ہے کہ زیر زمین پانی کو بچانے کے لئے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے اگر خشک سالی کیساتھ ساتھ ڈیم نہ بنائے گئے تو کوئٹہ تباہی کی طرف گامزن ہو گا انہوں نے بتایا کہ ماہرین کی تین رکنی ٹیم کے جدید سائنسی تحقیق میں بھی چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں گلو بل سسٹم کے مطابق زمین دھنسے کی سب سے بڑی وجہ زیر زمین پانی کا تیزی سے نکالے جانا ہے اس سے قبل کوئٹہ کے مختلف علاقوں گاہی خان چوک، بلیلی کی زمین دھنسے لگی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس طرح توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کوئٹہ کی زمین کمزور پڑ ھ گئی زلزلہ دگنی تباہی کا باعث بن سکتا ہے کوئٹہ کی زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر بیٹھنے لگی زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لئے ڈیمز کی تعمیر نا گزیر ہے واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں کچلاک، نواں کلی، بلیلی ، سریاب، ہزار گنجی، پشتون آباد، خروٹ آباد، خیزی چوک، خلجی کالونی ، کاکڑ کالونی سمیت دیگر علاقوں میں ڈریلنگ سسٹم کی وجہ سے زمین کمزور پڑھ گئی اور حکومت کی پالیسی نہ ہو نے کی وجہ سے لوگ جگہ جگہ پر ٹیوب ویل کے باعث پانی کی سطح بھی نچی چلا گیا جبکہ ڈریلنگ سسٹم کی وجہ سے زمین بھی کمزور پڑ ھ گئی۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…