پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک کی پالیسیاں 7 سے 8 لوگوں کے ہاتھ میں آ گئیں، یہ لوگ کون ہیں اور روزانہ وزیراعظم ہاؤس میں کیا کرتے ہیں؟ معروف صحافی کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی محمد مالک نے ایک ٹی وی چینل پروگرام میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ وزیراعظم ہاؤس میں سات سے آٹھ لوگوں کی میٹنگ ہوتی ہے، معروف صحافی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیس کروڑ افراد کا ملک ہے، چالیس پچاس لوگوں کی کابینہ ہے، ٹاسک فورس کا ایک انبار لگا ہوا ہے مگر صبح کے وقت روزانہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک میٹنگ ہوتی ہے،

روزانہ ہونے والی اس میٹنگ میں سات سے آٹھ افراد بیٹھتے ہیں، معروف صحافی نے کہا کہ یہ سات آٹھ لوگ کہنے کو تو میڈیا کو ڈسکس کرتے ہیں مگر اس میٹنگ میں ملک کی ہر چیز پر بحث ہوتی ہے، معروف صحافی نے کہا کہ کچھ اہم معاملات پر غور کیا جاتا ہے جیسے کے ایران کے ساتھ پالیسی کیا ہونا چاہیے، سعودی عرب جانا چاہیے یا پھر نہیں، اس کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا، روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اس میٹنگ میں تمام چیزوں پر بات کی جاتی ہے۔ معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ یہ سات آٹھ لوگ ملک کی پالیسیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں، معروف صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ میں کون کون شریک ہوتا ہے یہ میں پھر کبھی بتاؤں گا لیکن اس میٹنگ میں کون کون موجود نہیں ہوتا وہ بتاتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کے علاوہ وزیر دفاع پرویز خٹک بھی موجود نہیں ہوتے اور نہ ہی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اس میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں۔ اس موقع پر معروف صحافی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اس میٹنگ میں شامل ہونے والے یہ سات سے آٹھ لوگ کون ہیں جو وزیراعظم عمران خان کو ملکی معاملات پر تجاویز دے رہے ہیں اور اس کا نتیجہ ہم سب دیکھ رہے ہیں، معروف صحافی نے پروگرام کے دوران کہا کہ یہ ایک کنفیوژن ہے جو پھیلی ہوئی ہے کیونکہ ملکی معاملات پر ملک کے وزراء کی بجائے انہی سات آٹھ لوگوں سے گفتگو کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…