پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب سے پیکج کی وصولی کے بعد اب حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لے گی یا نہیں؟ وزیرخزانہ اسد عمر نے حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے ہونیوالے اجلاس میں بجلی کی قیمت ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ بڑھانے سے متعلق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین اور وزیر توانائی عمر ایوب کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسد عمر نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے ایک کروڑ 76 لاکھ گھریلو کنکشن پر کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، 300 سے 700 یونٹ والوں کیلئے 10 فیصد اور اس سے اوپر والوں کیلئے 15 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ 5 کے وی سے کم بجلی استعمال کرنیوالے کمرشل صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیااور ایسے صارفین کی تعداد 95 فیصد ہے۔انہوں نے بتایا کہ سکولوں اور ہسپتالوں کیلئے بھی بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ امید ہے کہ ملک کیلئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا یہ آخری پروگرام ہوگا۔پریس کانفرنس کے دوران وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ پچھلی حکومت ملک کو تباہ چھوڑ کر گئی ہے لیکن ہم پاور سیکٹر کے خسارے کو ختم کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے بجلی چوروں کیخلاف کل سے مہم کا آغاز کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سالانہ 250 سے 280 ارب روپے کم بل اور بجلی چوری کی مد میں چلے جاتے ہیں جس کا خمیازہ پاکستان کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم کے بی سی کیبلز لگائیں گے جن پر کنڈا نہیں چلتا، اس کے علاوہ اے ایم آئی میٹر بھی لگائے جائینگے جو کہ ٹرانسفارمر پر بھی نصب ہوگا جو بجلی چوری کی نشاندہی کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کا آغاز اسلام آباد اور لاہور سے کیا جارہا ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ بار بار ہم کہتے ہیں کہ سابق حکومت نے پلاننگ نہیں کی، انہوں نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنوں کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور بجلی چوری کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ، ہمارے پاس ایک جامع منصوبہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…