پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف صحافیوں کو ’’کانا‘‘کرنے کیلئے کونسا کلیہ استعمال کرتے تھے؟رؤف کلاسرا نے سنسنی خیز دعویٰ کردیا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ  ڈیسک)بینظیر اور نواز شریف نے صحافیوں کے اپنے اپنے گروہ تشکیل دیے تھےجبکہ  نواز شریف تو صرف ان لوگوں کو خبر دیتے تھے جو ان کے قریب ہوتے تھے ۔ نواز شریف کسی صحافی کو اپنے قریب کرنے سے پہلے اسے لفافہ دے کر ’ کانا ‘ کرتے تھے ۔ان خیالات کا اظہارسینئر صحافی رﺅف کلاسرا نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ صحافیوں کو دبانے کا کام تو جنرل ایوب سے شروع ہوا تھا۔ بھٹو نے صحافیوں کو قید میں ڈالا ، جنرل ضیا ایک قدم آگے نکل گئے، ناصر زیدی جیسے صحافیوں کو کوڑے مارے گئے اور شاہی قلعے میں قید کیا جہاں ان کی جوانیاں ڈھل گئیں، بچے رل گئے۔صحافی جس قوم کیلئے لڑ رہے تھے وہ بھٹو کو عظیم قائد اور جنرل ضیا کو مرد مومن مرد حق کا درجہ دے کر خوش تھے ۔بینظیر بھٹو کو دوسرے حکومت میں سمجھ آگئی تھی کہ صحافیوں کا اپنا گروہ ہونا چاہیے جو ان کی بات سنتا اور سمجھتا ہو، زرداری نے اپنا ناشتہ گروپ تشکیل دے دیا۔ نواز شریف کاروباری انداز میں ڈیل کرنے کے قائل تھے۔ لاہور کے ایک صحافی نے بتایا کہ وہ نواز شریف سے لفافہ لیتے تھے کیونکہ اس کے بغیر وہ بھروسہ نہیں کرتے تھے ۔ جب تک وہ صحافی کو لفافے سے ’ کانا‘ نہ کرلیتے اسے قریب نہ آنے دیتے۔ خبر لینے کیلئے ضروری تھا کہ شریفوں کے قریب ہوا جائے، قریب ہونے کیلئے ضروری تھا کہ حلف وفاداری لیا جائے اور ان کا حلف وفاداری لفافہ تھا تاکہ وہ کل کو ان کے خلاف نہ لکھ سکے، یوں چند ہزار روپوں میں سب معاملات طے ہوجاتے تھے۔بعد میں نواز شریف کے اس گروپ کو ہیلی کاپٹر گروپ کا نام دیا گیا ۔ جہاں صاحب نے جانا ہے وہاں ہیلی کاپٹر میں چند صحافی اور کالم نگار بھی جائیں گے جو واپسی پر اپنے کالموں میں ان کی کرامات اور جلالی اندز کو عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

ہر جھوٹ کو سچ اور ہر نکمے اور کرپٹ لیڈر کو نیلسن منڈیلا اور چارلس ڈیگال بنا کر پیش کیا گیا۔ جو ایوریج قسم کی سوچ بھی نہیں رکھتا اسے انقلابی اور عظیم لیڈر کے طور پر پیش کیا یوں پاکستان میں درمیانے درجے کی قیادت اوپر ابھری جسے عوام سے زیادہ ان صحافیوں نے لیڈر کا درجہ دے رکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…