پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی اکا ؤنٹس کے بعد بے نامی جائیداد کا سراغ لگالیا گیا،52 ارب روپے کے مہنگے ترین پلاٹ بے نامی اکانٹس سے خریدے گئے، سنسنی خیز انکشافات

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(آ ئی این پی)شہر قائد میں جعلی اکانٹس اور جعلی کمپنیوں کے بعد بے نامی جائیداد کا سراغ لگالیا گیا ہے،کراچی کے میں جعلی اکانٹس اور جعلی کمپنیوں کا سلسلہ تھما نہ تھا کہ اب بے نامی جائیداد بھی سامنے آگئی ہے، کلفٹن میں 52 ارب روپے کے پانچ مہنگے ترین پلاٹ بے نامی اکانٹس سے خریدے گئے، کلفٹن میں پلاٹس کی تفصیلات کے ڈی اے اور ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ سے طلب کرلی گئی،نجی ٹی وی کے مطابق کراچی کے میں جعلی اکانٹس اور جعلی کمپنیوں کا سلسلہ تھما نہ تھا کہ

اب بے نامی جائیداد بھی سامنے آگئی ہے، کلفٹن میں 52 ارب روپے کے پانچ مہنگے ترین پلاٹ بے نامی اکانٹس سے خریدے گئے، کلفٹن میں پلاٹس کی تفصیلات کے ڈی اے اور ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ سے طلب کرلی گئی۔دوسری جانب پشاور کے چوک یادگار میں ایف آئی اے نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ہنڈی و حوالہ میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرکے رقم برآمد کرلی۔واضح رہے کہ شہر قائد کے رہائشی فالودہ فروش عبدالقادر کے اکانٹ میں 2 ارب روپے آگئے تھے جس کی تحقیقات ایف آئی اے نے شروع کردی تھی، فالودہ فروش کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔فالودہ بیچنے والے شہری نے مزید کہا تھا کہ مجھے جو دستخط دکھائے گئے وہ انگریزی میں ہیں، جب کہ میں انگوٹھا چھاپ ہوں، انگریزی میں دستخط نہیں کر سکتا۔خیال رہے کہ جھنگ کے طالب علم اسد علی کے اکانٹ میں 17 کروڑ 30 لاکھ روپے موجود ہونے کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد ایف آئی اے ٹیم مذکورہ طالب علم کو جھنگ سے لے کر کراچی روانہ ہوگئی تھی۔اسد علی بی ایس سی کا طالب علم ہے، اسد علی کا کہنا تھا کہ کراچی آج تک نہیں دیکھا، اب تحقیقات کے لیے بلایا گیا ہے، اتنی بڑی رقم سے کوئی تعلق نہیں ہے میری مدد کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…