جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پاک ایران بارڈر پر ایرانی خفیہ ادارے کے ممبران سمیت 14اہلکار غائب ہوگئے، سنسنی خیز انکشافات،پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان اور ایران نے ملکر مغوی14 سکیورٹی گارڈز کی تلاش کیلئے مشترکہ کوششیں شروع کردیں ۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان ایرانی سکیورٹی گارڈز کی تلاش میں ہرممکن ایران کی مدد کرے گا،ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک ، ایران بارڈر پر لاپتہ ہونے والے ایرانی گارڈز کو دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکر کام کررہے ہیں۔ قبل ازیں ایران سمیت بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ منگل کی شام کوئٹہ کے قریب پاک ، ایران سرحد پر 14 سکیورٹی گارڈز کو

اغواکرلیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے امریکی اخبار نے دعو یٰ کیا ہے کہ دوسکیورٹی گارڈز خفیہ ادارے کے ممبران تھے جبکہ سات ممبران باسیج فورس کے رضاکار تھے اور دوبارڈر سکیورٹی گارڈڈیوٹی پر موجود تھے۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاک ، ایران سرحد پر یہ راستہ منشیات سمگلنگ کرنے یا بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے افراد استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ بلو چستان سے ملحقہ ایرانی سرحد پرسرشام اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اغواء کیا گیا ۔جب ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ القاعدہ کے گروپ جیش العدل نے انہیں اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اپنے صوتی پیغام میں خود کوجیش العدل کا ترجمان بتانے والے ابراہیم عزیزی نامی شخص نے کہا کہ ان کی تنظیم نے سرحدی چوکی پرحملہ کرکے 10 اہلکاروں کو یرغمال بنالیا ہے جب کہ وہاں سے ملنے والے اسلحے اوردیگر سامان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی واقعے کی تصدیق کردی ہے۔ ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ 14 ایرانی سرحدی محافظوں کو منگل کے روزمقامی وقت کے مطابق علی الصبح چار سے پانچ بجے کے درمیان صوبہ سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے میرجاوہ سے اغوا کیا گیا۔ایرانی پاسداران انقلاب فورس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر موجود بعض علاقائی ممالک کے حمایت یافتہ شرپسند اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…