پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سیاستدان منشیات کے دھندے میں ملوث، ہیروئن بیچنے والا نواز شریف کے جلسوں کے اخراجات برداشت کرتا تھا، پی ٹی آئی کےکتنےسیاستدانوں بھی مکروہ دھندے میں ملوث نکلے، معروف صحافی ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ انصاف کی تاخیر اور عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کے سب ہی  ذمہ دار ہیں صرف عدلیہ میں خرابی نہیں ہے، پولیس بھی ذمہ دار ہے، حکومت میں خرابی ہے۔ اس موقع پر ہارون الرشید نے روزنامہ خبر یں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کی کتاب میں درج

ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ، ضیا شاہد کی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک صاحب نواز شریف صاحب کے جلسوں کے اخراجات برداشت کرتے تھے تو میں نے نواز شریف کو بتایا کہ یہ شخص تو ہیروئن کا کاروبار کرتا ہے اور 5فیصد حصہ لیتے ہیں ٹرک پنجاب کی حدود سے گزارنے کا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کچھ بھی کرے لیکن جلسے کیلئے وہ 50لاکھ روپیہ دیتا ہے اور جہاں بھی جلسہ کرنا ہو تو ایک جلسہ پر تین کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہارون الرشید کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف حکمرانوں تک کا نہیں بلکہ زرداری صاحب کا بھی کیا معاملہ تھا اور تحریک انصاف میں بھی ایسے کئی لوگ ہیں اور میں ان 6سیاستدانوں کے نام جانتا ہوں جن پر کبھی کیس نہیں چلا جو منشیات کے دھندے میں ملوث تھے، ناکافی ثبوت کی وجہ سے اے این ایف والے خاموش رہے۔ معروف انگریزی اخبار میں فرنٹ پیج پر سٹوری چھپی تھی آج سے پندرہ سال پہلے نواز شریف کے ایک کزن کے بارے میں اور فرنٹ پیج پر ثبوت اور دعوے کے ساتھ کہ وہ منشیات بیچتا ہے، کسی کے کان میں جوں نہیں رینگی اس زمانے میں کیونکہ اس دور میں اتنی سختی نہیں تھی۔ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اخبارات میں بھی ایسے لوگ ہیں کیا اخبارات میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو سیاسی پارٹیوں سے یا حکمرانوں سے یا صوبائی اور مرکزی حکومتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، پیسے لیتے ہیں،

مراعات لیتے ہیں اور ان کی وکالت کرتے ہیں یا پھر اپوزیشن سے فائدے اٹھاتے ہیں اور حکومت پر ناروا تنقید کرتے ہیں۔ کیا این جی اوز میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو باہر سے پیسے لیتے ہیں اور فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ فوج پر بھی تنقیدہوتی ہے اور بعض اوقات ضروری ہوتی ہے، فوج کوئی فرشتوں کی تو نہیں ہے۔ خرابی ہر جگہ ہے اور اصلاح کا آغاز بھی ہر جگہ سے ہو گا، اصلاح کیلئے ریاضت تو چاہئے مگر حکمت بھی ضروری ہے، منصوبہ بندی بھی چاہئے۔ ایک اچھا تھانیدار آجائے تو تھانے کی حدود میں صورتحال بدل جاتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…