پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کے آئندہ ماہ دورہ چین کے دوران بڑے بریک تھرو کا امکان ،حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 14  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران رشکئی اور دیگر اقتصادی زون کے حوالے سے بڑے بریک تھرو کا امکان ہے، سی پیک کے تحت رشکئی اکنامک زون پرجلد کام شروع ہو جائیگا ٗ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان میں چین کے تعاون سے صنعتی انقلاب برپا ہوگا‘

اس مرحلہ میں ملک کے چاروں صوبوں ‘ گلگت بلتستان ‘ فاٹا اور آزاد کشمیر میں مجموعی طورپر 9 صنعتی زونز بنائیں جائیں گے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ چینی 34 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پاکستان میں توانائی کے حوالے سے شروع کئے گئے بیشترمنصوبوں پرخرچ کررہاہے اوران منصوبوں میں اکثرتکمیل کے مراحلے کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت 22 ارب ڈالرکی رقم بنیادی ڈھانچے اوردیگرمنصوبوں کے لیئے مخصوص کی گئی ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ملک بھرمیں 9 اقتصادی رونز قائم کئے جائیں گے۔ سی پیک کی وجہ سے ملک میں روزگار کے نئے مواقعوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ حسن داؤد بٹ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کے تحت خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع رشکئی اقتصادی زون پر کام تیزی سے جاری ہے، رشکئی اقتصادی زون (ایم ون نوشہرہ) کیلئے 2000 ایکڑ اراضی حاصل کی جا چکی ہے اورصنعتی بستی کے قیام کیلئے اقدامات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی زون میں پھلوں اوراشیائے خوراک کی پیکجنگ، ٹیکسٹائیل سٹچنگ و نیٹنگ اوردیگر متعلقہ صنعتوں کے قیام اوران کیلئے سہولیات پر توجہ دی جائے گی۔ رشکئی اقتصادی زون کی علاقائی و جغراقیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس صنعتی بستی سے ائیرپورٹ کا فاصلہ 65کلومیٹر، ڈرائی پورٹ 65 کلومیٹر، ریلوے سٹیشن 25کلومیٹر، سٹی سینٹر15 کلومیٹر، ہائی وے 5کلومیٹر اورموٹروے بالکل متصل ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں صنعتی بستی کے قیام کی تجویز صوبائی حکومت کی طرف سے آئی تھی اور اس میں وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان میں چین کے تعاون سے صنعتی انقلاب برپا ہوگا‘ اس مرحلہ میں ملک کے چاروں صوبوں ‘ گلگت بلتستان ‘ فاٹا اور آزاد کشمیر میں مجموعی طورپر 9 صنعتی زونز بنائیں جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…