جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی بڑی باتیں فیصل رضا عابدی کو مہنگی پڑ گئیں،عدالت نے فیصلہ سنادیا،احکامات جاری

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) عدالت نے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم د یتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد پولیس اتنی ذمہ دار کیسے ہوگئی، یہاں تو لوگ درخواست دے دے کر مر جاتے ہیں، کوئی کارروائی نہیں ہوتی، ایک شخص سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد نکل رہا تھا ا سے گرفتار کر لیا، صرف مساوی نظام کی بات کررہا ہوں،

بدقسمتی ہے ہر کسی کو اپنی وردی کی پڑی ہوئی ہے، عمران خان اور طاہر القادری کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا، وہ تقریریں کرتے رہے ۔ ہفتہ کو اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر کی عدالت میں سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں پولیس نے سابق سینیٹر کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔جج نے فیصل رضا عابدی کی گرفتاری پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو جو ہورہا ہے وہ نظر کیوں نہیں آرہا، یہ امتیاز سلوک کیوں؟حیرانی ہورہی ہے کہ اسلام آباد پولیس اتنی ذمہ دار کیسے ہوگئی، یہاں تو لوگ درخواست دے دے کر مر جاتے ہیں، کوئی کارروائی نہیں ہوتی، ایک شخص سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد نکل رہا تھا ا سے گرفتار کر لیا۔معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی کی حمایت نہیں کررہا، صرف مساوی نظام کی بات کررہا ہوں، بدقسمتی ہے ہر کسی کو اپنی وردی کی پڑی ہوئی ہے، یہ کیا فلسفہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اشتہاری قرار دے دیا جاتا ہے جو تقریریں بھی کررہے ہوتے ہیں، عمران خان اور طاہر القادری کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا، وہ تقریریں کرتے رہے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ سیون اے ٹی اے تو مذاق ہوگیا ہے جس پر دل چاہا دہشت گردی کی دفعات لگا دیں۔عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ فیصل رضا عابدی کو پہلے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کیا کوشش کی تھی؟اس پر پولیس پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پولیسں ٹیم گرفتاری کیلئے کراچی گئی تھی لیکن گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد سابق سینیٹر کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…