پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مبینہ بھارتی جاسوس کی پاکستانی جیل میں موت بھارتی سفارتخانہ اپنا شہری تسلیم کرنے سے تاحال انکاری لاش کا کیا کیا جائیگا؟پاکستان نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی سفارتخانے کو کوٹ لکھپت جیل میں بیماری کے باعث مرنے والے بھارتی شہری کی موت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ۔ تاہم کرشن ودیا ساگر کے بھارتی شہری ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کرشن ودیا ساگر کے خلاف 2015ء میں دفعہ 420، 468، 471، 467 اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا

جس کے نتیجے میں کرشن ودیا ساگرکو 10ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ، کرشن ساگرکی سزا 20 اپریل 2016 میں مکمل ہوگئی تھی، اس کی شہریت کی تصدیق کے لئے بھارتی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن بھارت کی طرف سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق کرشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتخانے ابھی تک اپنے مبینہ شہری کی لاش واپس لینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ، اگر بھارتی سفارتخانے نے کرشن ساگر کو اپنا شہری تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی لاش واپس لی تو اسے لاوارث قرار دے کر ہندو مذہب کے رسم ورواج کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کردی جائیں گی۔رشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…