بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مبینہ بھارتی جاسوس کی پاکستانی جیل میں موت بھارتی سفارتخانہ اپنا شہری تسلیم کرنے سے تاحال انکاری لاش کا کیا کیا جائیگا؟پاکستان نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی سفارتخانے کو کوٹ لکھپت جیل میں بیماری کے باعث مرنے والے بھارتی شہری کی موت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ۔ تاہم کرشن ودیا ساگر کے بھارتی شہری ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کرشن ودیا ساگر کے خلاف 2015ء میں دفعہ 420، 468، 471، 467 اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا

جس کے نتیجے میں کرشن ودیا ساگرکو 10ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ، کرشن ساگرکی سزا 20 اپریل 2016 میں مکمل ہوگئی تھی، اس کی شہریت کی تصدیق کے لئے بھارتی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن بھارت کی طرف سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق کرشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتخانے ابھی تک اپنے مبینہ شہری کی لاش واپس لینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ، اگر بھارتی سفارتخانے نے کرشن ساگر کو اپنا شہری تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی لاش واپس لی تو اسے لاوارث قرار دے کر ہندو مذہب کے رسم ورواج کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کردی جائیں گی۔رشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…