جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

مبینہ بھارتی جاسوس کی پاکستانی جیل میں موت بھارتی سفارتخانہ اپنا شہری تسلیم کرنے سے تاحال انکاری لاش کا کیا کیا جائیگا؟پاکستان نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی سفارتخانے کو کوٹ لکھپت جیل میں بیماری کے باعث مرنے والے بھارتی شہری کی موت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ۔ تاہم کرشن ودیا ساگر کے بھارتی شہری ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کرشن ودیا ساگر کے خلاف 2015ء میں دفعہ 420، 468، 471، 467 اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا

جس کے نتیجے میں کرشن ودیا ساگرکو 10ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ، کرشن ساگرکی سزا 20 اپریل 2016 میں مکمل ہوگئی تھی، اس کی شہریت کی تصدیق کے لئے بھارتی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن بھارت کی طرف سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق کرشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتخانے ابھی تک اپنے مبینہ شہری کی لاش واپس لینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ، اگر بھارتی سفارتخانے نے کرشن ساگر کو اپنا شہری تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی لاش واپس لی تو اسے لاوارث قرار دے کر ہندو مذہب کے رسم ورواج کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کردی جائیں گی۔رشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…