پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارا اس بل سے کوئی تعلق اور سروکاری نہیں!!حکومت نے گستاخانہ مواد کی روک تھام کیلئے پیش کیا گیا بل واپس لینے کیلئے درخواست دیدی ،حکومت کا حیران کن مؤقف بھی سامنے آگیا، جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے گستاخانہ مواد کی روک تھام کیلئے ایوان بالا میں پیش کیا گیا بل واپس لینے کیلئے درخواست سینیٹ سیکرٹریٹ کو دیدی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بل کو پیش کرنے کی منظوری گزشتہ حکومتی کابینہ نے دی تھی ، قانونی طور پر ایوان میں بل پیش کرنے کیلئے موجودہ حکومتی کابینہ کی منظوری ضروری ہے،

بل سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان سینیٹ کے مطابق جمعہ کو قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے 19ستمبر2018کو ایوان بالا میں پیش کیا گیا الیکڑانک کرائم کے تدارک کا ترمیمی بل 2018واپس لینے کیلئے سینیٹ سیکرٹریٹ کو درخواست دی ہے،ایوان نے یہ بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا ۔ یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری 29مئی2018کواس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ نے دی تھی،بل کا مسودہ اس وقت کی وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جس کا مقصد گستاخانہ مواد کی روک تھام تھا ۔ کابینہ کی منظوری کے بعد یہ بل ایوان بالا کو بھیج دیا گیا جو کہ 19ستمبر2018کو سینیٹ میں پیش کیا گیا اور متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔قائد ایوان نے اس حوالے سے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس بل کو پیش کرنے کی منظوری گزشتہ حکومتی کابینہ سے حاصل کی گئی تھی اور قانونی طور پر ایوان میں بل پیش کرنے کیلئے موجودہ حکومتی کابینہ کی منظوری ضروری تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس بل سے کسی طور پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہے اس لئے بل واپس لینے کیلئے باقاعدہ سینیٹ سیکرٹریٹ میں درخواست دی گئی ہے۔قائد ایوان نے اس حوالے سے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس بل کو پیش کرنے کی منظوری گزشتہ حکومتی کابینہ سے حاصل کی گئی تھی اور قانونی طور پر ایوان میں بل پیش کرنے کیلئے موجودہ حکومتی کابینہ کی منظوری ضروری تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس بل سے کسی طور پر بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…