اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سب سے زیادہ بھوکے افراد کس جگہ پائے جاتے ہیں؟ دنیا میں کتنے کروڑ انسان بھوک اور کم خوراک کا شکار ہیں،بھوک سے متعلق تازہ ترین عالمی انڈیکس جاری، حیران کن تفصیلات

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)بھوک کے تازہ ترین عالمی انڈکس میں بتایاگیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوک اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تعداد بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے اور بڑھی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وفاقی جرمن دارالحکومت برلن میں عالمی سطح پر مجبورا فاقہ کشی، بھوک کے مسئلے اور کم خوراکی سے

متعلق اعداد و شمار پر مشتمل سال رواں کے لیے بھوک کے عالمی انڈکس (ڈبلیو ایچ آئی) 2018ء کی تفصیلات جاری کردی گئیں ،یہ انڈکس بین الاقوامی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں اور جرمنی سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم وَیلٹ ہْنگر ہِلفے (ورلڈ ہنگر ہیلپ) کی طرف سے ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔اس انڈکس کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر 821 ملین انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے یا تو کوئی خوراک دستیاب نہیں یا پھر وہ تشویش ناک حد تک کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان میں وہ 124 ملین( قریب ساڑھے بارہ کروڑ )انسان بھی شامل ہیں، جن کا بھوک کا مسئلہ انتہائی شدید ہو کر فاقہ کشی بن چکا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 2000ء سے لے کر آج تک گزشتہ 18 برسوں میں بھوک کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں جتنی بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اسے ان جنگوں اور مسلح تنازعات سے شدید خطرات لاحق ہیں، جو بڑی تعداد میں مختلف خطوں میں پائے جاتے ہیں اور جن میں سے بہت سے برس ہا برس سے حل نہیں ہو سکے۔ اس انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا کا بھوک اور کم خوراکی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ براعظم افریقہ کا زیریں صحارا کا علاقہ ہے۔گیرڈ میولر نے کہا کہ کرہ ارض اس بات کی اہلیت رکھتا ہے اور اتنے وسیع وسائل بھی دستیاب ہیں کہ دنیا کے تمام انسانوں کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے۔چانسلر میرکل کی کابینہ کے اس رکن نے

کہا کہ آج دنیا میں اتنی ترقی ہو چکی ہے کہ بھوک سے پاک دنیا کی منزل حاصل کی جا سکے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ بار بار اور جگہ جگہ پیدا ہونے والے پرتشدد اور ہلاکت خیز مسلح تنازعات بھوک کے خلاف کوششوں کے ثمرات ضائع کر دیتے ہیں۔یہ عالمی انڈکس دنیا کے 191 ممالک کی صورت حال اور وہاں بھوک کے مسئلے کی شدت کو سامنا رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بھوک اور فاقہ کشی کی صورت حال کے اسباب میں صرف جنگیں، مسلح تنازعات اور شدید نوعیت کی ماحولیاتی تبدیلیاں ہی شامل نہیں بلکہ اس عمل میں مہاجرت، ترک وطن اور زندہ رہنے کے لیے نقل مکانی بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف بحران زدہ خطوں میں یا ان خطوں سے تعلق رکھنے والے 68 ملین (پونے سات کروڑ سے زائد) انسان اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے اپنے آبائی علاقوں سے رخصت ہو کر داخلی یا بین الاقوامی مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دینے پر مجبور انسانوں کی یہ اتنی بڑی تعداد ہے، جتنی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…