پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کیا میں آ پ کی مدد کر سکتا ہو ں۔۔ڈالر کی قدر میں اضافہ ، آئی ایم ایف پروگرام، حکومت متضاد بیانات کے حصار میں پھنس گئی، ٹی وی اینکرنے اسحاق ڈار کا ایسا کلپ چلا دیا کہ دیکھ کر عمران خان اور اسد عمر بھی تپ جائیں

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی مشکلات کے باعث معروف ٹی وی اینکرز نے بھی ناقص پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کر دی۔ جمعرات کو ایک معروف نجی ٹی وی اینکرنے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کے سابق بیانات کو پروگرام میں نشر کیا جس میں عمران خان تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جب ڈالر کی قدر میں

ایک روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو ملک پر اربوں روپے کے قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، عمران خان مر جائے گا لیکن کبھی بھیک نہیں مانگے گا،اگر ایسے کام کرنے پڑے تو آپ کا وزیراعظم خودکشی کرلے گا، پروگرام میں اسد عمر کی سینیٹ میں ایک تقریر دکھائی گئی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا،اور اگر ایسا کرنا پڑا تو پہلے کابینہ کو بریف کریں گے اور پھر پارلیمنٹ سے رابطہ کریں گے،پروگرام میں عمران خان کا ایک اور بیان دکھایا گیا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تاہم اس حوالے سے ابھی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے،اسد عمر کا ایک اور کلپ پروگرام میں دکھایا گیا جس میں وہ تسلیم کر رہے تھے کہ قرض حاصل کرنے کیلئے ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنی پڑے گی۔ پروگرام میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بھی ایک کلپ نشر کیا گیا جس میں وہ اس بات کی تصدیق کر رہے تھے کہ حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرے گی اور ان تمام کلپس کے اختتام پر سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ پہلے وائرل ہونے والا ایک کلپ دکھایا گیا جس میں ایک شہری کے تنگ کرنے پر وہ کہہ رہے تھے کہ کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ ایک اور معروف اینکر نے اپنے پروگرام میں یہ تجزیہ پیش کیا کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اپنے دورحکومت میں ڈالر کی قیمت کو 103روپے پر روکے رکھا اور گیس و بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں، دنیا کے بڑے معاشی اداروں کو پاکستان کا مستقبل روشن نظر آرہا تھا لیکن موجودہ حکومت کے 17معاشی ماہرین نے صرف 55دنوں میں ملک کا جلوس نکال دیا۔(اح+ض ا)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…