جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

تباہ کن زلزلے کو آج 13سال مکمل ،زلزلے کے 4دن بعد ملنے والا ابوبکر اب کیسا دکھتا ہے،ملبے کے نیچے یہ اتنے دن کیسے زندہ رہا؟پڑھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو نکلناشروع ہوجائینگے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

مظفر آباد(سی پی پی)آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں املاک منہدم ہوگئی تھیں۔ان ہی میں سے ایک آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی ریڈیو کالونی بھی تھی، جہاں 28 افراد جاں بحق ہوئے، لیکن اسی بستی میں ایک معجزہ بھی ہوا، جب ایک 9 سالہ بچے کو چار روز بعد ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا۔

ابوبکر اس وقت 9 برس کا تھا، جب اس کا 3 منزلہ گھر زلزلے کے جھٹکے کے نتیجے میں زمین بوس ہوگیا اور وہ ملبے تلے دب گیا، جسے پاک فوج اور امدادی ٹیموں نے 4 روز بعد ریسکیو کیا۔ابوبکر اب جوان ہوچکے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں اس واقعے کی ہولناکیاں اب بھی تازہ ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ابوبکر نے اس حوالے سے اپنی یادیں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ‘8 اکتوبر کو میں گھر کے برآمدے میں بیٹھا تھا کہ اچانک زمین ہلنے لگی۔ابوبکر نے بتایا، میں ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا کہ اچانک چھت نیچے آنے لگی تو میں وہیں نیچے جھک گیا۔انہوں نے بتایا اسی حالت میں 3، 4 روز گزر گئے، مجھے لوگوں کے بولنے کی اور ہیلی کاپٹروں کے گزرنے کی آوازیں آتی تھیں۔ابوبکر کے مطابق میں اس عرصے میں مسلسل آیت الکرسی کا ورد کرتا رہا اور پھر چوتھے دن مجھے آرمی نے وہاں سے نکالا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جس دن زلزلہ آیا، میرا پہلا روزہ تھا، جو پھر تین چار دن تک چلا گیا کیونکہ ملبے تلے نہ کھانے کو کچھ ملا اور نہ ہی کچھ پینے کو۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے! ابوبکر کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آج سے 13 برس قبل وہ مسلسل چار روز تک بھوکا پیاسا ملبے تلے دبا رہا ہوگا، لیکن واقعی معجزے اسی دنیا میں ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…