جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’کیا شہباز شریف کی گرفتاری کا تحریک انصاف کو پہلے سے علم تھا ؟‘‘ عثمان ڈارنے اپناٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا ، اس میں ایسا کیا لکھاتھا ؟معروف خاتون اینکر نے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے دوٹوک پیغام بھی دیدیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو گزشتہ روز نیب نے صاف پانی کیس میں تیسری دفعہ تفیش کیلئے طلب کیا تھا ۔ نیب سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دینے پر اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کو آشیانہ ہائوسنگ سکیم کیس میں گرفتارکیا گیا ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری نے ملکی سیاست میں ہلچل مچادی تو وہیں سیاسی رہنمائوں کا شدید ردعمل بھی سامنے آیا ۔

اس معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام ٹویٹ کیا جس میں لکھا کہ ’’فواد حسن فواد شہباز شریف کیخلا ف وعدہ معاف گواہ بنے ہیں ‘‘۔ جس پر معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے ان پر سوال داغ دیا کہ ’’ سر یہ خبر آپ کے پاس پہلے کہاں سے آ گئی ؟ نیب نے تو ابھی باضابطہ نہیں بتایا‘‘۔ غریدہ فاروقی کے سوال پوچھتے ہیں عثمان ڈار نے فوراً اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا لیکن معروف اینکر نے ان کے ٹویٹ کے سکرین شاٹ لے کر شیئر کیے اور ساتھ لکھا کہ ’’ بہت اچھے اور پیارے انسان ہیں عثمان ڈار صاحب لیکن غلطی کر گئے۔ ٹویٹ کیا کہ فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن گئے؛ پھر ڈیلیٹ کر دیا۔ پی ٹی آئی حکومت کو چاہئیے نیب کے معاملات میں بیان بازی سے دور رہے۔یاد رہے کہ نیب نے احتساب عدالت سے شہباز شریف کے15روز ہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر رکھی تھی جسے عدالت نے جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے 10روزہ جسمانی ریمانڈپر انہیں نیب کے حوالے کر دیا ۔جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ضمنی انتخابات سے پہلے شہباز شریف میدان میں نہ ہوں ، نیب کے پاس ثبوت ہیں تو ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے ۔ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہی وہ 10 دن ہیں جب پی ٹی آئی شہباز شریف کو گرائونڈ پر نہیں دیکھنا چاہتی ، حکومت چاہتی ہے کہ ضمنی انتخابات سے پہلے شہباز شریف میدان میں نہ ہوں ،نیب کے پاس ثبوت ہیں تو ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے ، کون سی ایسی تحقیقات ہیں جو نیب نے کرنی ہیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…