جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کا بھی کچا چٹھا کھل گیا، ڈیڑھ لاکھ کا کنسلٹنٹ ڈیڑھ ارب روپے میں ہائر، 10لاکھ کا فلٹرکتنے کروڑ روپےمیں لگایا جاتا رہا؟ پنجاب میں بہنے والی دودھ اور شہد کی نہریں سامنے آگئیں، عجب کرپشن کی غضبناک کہانی

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک)شہباز شریف کا بھی نمبر لگ گیا، نیب لاہور نے کل 11بجے طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی چوہدری غلام حسین نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو نیب لاہور نے کل بروز جمعہ 11بجے صاف پانی کمپنی سکینڈل میں طلب کر لیا ہے۔ چوہدری غلام حسین نے مزید انکشاف کرتے ہوئے

بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور حکومت میں صاف پانی کمپنی میں فلٹر پلانٹس کی تنصیب کی ترجیحات طے کرنے کیلئے ایک کنسلٹنٹس رکھے گئےتھے اس پر ڈیڑھ ارب روپے لگا دئیے گئے ۔ ایک ایسی کنسلٹنسی جس کا نہ کوئی جواز تھا اس پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم لگا دی گئی جو کہ ڈیڑھ لاکھ روپے یا پچاس ہزار میں کی جا سکتی تھی۔ اس موقع پر پروگرام کے میزبان سعید قاضی کا کہنا تھاکہ کنسلٹنٹ نے ڈیڑھ لاکھ روپے ہی رکھا ہو گا باقی کسی اور کو دیا گیا ہو گا۔ چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ یہ رقم کہاں گئ اور کہاں کہاں بانٹی گئی ، یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ سعید قاضی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ سب کچھ المیہ سہی مگر اس سے بھی بڑا واردات یہ ہے کہ یہ ان ٹچ ایبل ہے ۔ چوہدری غلام حسین نے اس موقع پر کہا کہ چکوال ایک پہاڑی علاقہ ہے، کونسا کنسلٹنٹ چاہئے جو یہ بتائے کہ صاف پانی کیلئے پلانٹس کس کس جگہ لگنا چاہئے ۔ چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ آج شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور رانا مشہود آکر بتائیں کہ ڈیڑھ ارب روپے کا کنسلٹنٹ کیوں رکھا گیا؟چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے دور حکومت کے ابتدائی دور میں پنجاب کے اس وقت کے گورنر چوہدری سرور نے ایک پرائیویٹ فنڈ قائم کیا اور اس سے کئی جگہ صاف پانی کے پراجیکٹ لگائے اور ان کا افتتاح کیا۔ وہ پلانٹ 10لاکھ روپے میں لگا رہے تھے،

جبکہ ان کا پونے دو کروڑ روپے کا پلانٹ تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس سے جان چھڑائو ، یہ آرائیں کہاں سے ٹوبہ سے اٹھ کرگلاسکو گیا اور وہاں ممبر اسمبلی بنا اور اب یہاں آکر ہم پر سوار ہو گیا ہے۔ یہ ہمیں سمجھا رہا ہے کہ پلانٹ 10لاکھ روپے میں لگائیں۔ چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ  ڈیڑھ کروڑ روپے کا پلانٹ انہوں نے خریدا۔ یا تو ان چیزوں کا جواب دیا جائے یا نیب وغیرہ کو بند کر دینا چاہئے۔

اس موقع پر سعید قاضی کا کہنا تھا کہ انہیں پتہ ہے کہ سزا ہی کوئی نہیں ہونی ، یہاں تو رانا مشہود کو کہا جاتا ہے کہ جائو بھئی جا کر بیان دو کہ ہماری ڈیل ہو گئی ہے اور ہمارے راستے کھل گئے ہیں اور ہم اب دیکھتے ہیں کہ دو ہی مجرم نکلے ہیں پنجاب میں ، ایک فواد حسن فواد اور دوسرےاحد چیمہ اور تیسرا بندہ ہی کوئی نہیں، اور اگر سندھ سے کوئی آئے تو اس کو پکڑ لو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…