منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پروٹوکول نہ لینے کے دعویداروں نے حد کر دی، وزیراعظم عمران خان کے پالتو کتے موٹو کو بنی گالا سے وزیراعظم ہائوس کیسے اور کتنے پروٹوکول میں لایا اور لے جایا جاتا ہے؟کونسی گاڑی اس کیلئے مختص ہے، سلیم صافی کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی سلیم صافی اپنے آج کے کالم میں ایک جگہ انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے کتے کی بنی گالہ سے وزیراعظم ہائوس اور وزیراعظم ہائوس سے بنی گالہ منتقلی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے انکشاف کے بعد روک دی گئی ہے تاہم اب عمران خان کے پالتو کتے کو زمینی راستے کے ذریعے انتہائی پروٹوکول میں لایا

اور لے جایا جاتا ہے، سلیم صافی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ خاتون اول صاحبہ کے انٹرویو کا ایک کلپ دیکھنے کو ملا جس میں وہ وزیراعظم صاحب کے کتے کےدکھوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرما رہی ہیں کہ کس مجبوری کے تحت اس کتے کو وہ اپنے ساتھ بنی گالہ سے وزیراعظم ہائوس لاتے اور پھر واپسی پر دوبارہ بنی گالہ لے جاتے ہیں ۔ آسٹریلیاجانے سے قبل میں نے جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں قوم کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ کس طرح وزیراعظم صاحب کے ساتھ ساتھ ان کا کتا بھی ہیلی کاپٹر میں آتا جاتا ہے ۔ چنانچہ خاتون اول صاحبہ نے ٹی وی انٹرویو میں یہ وضاحت ضروری سمجھی ۔ چونکہ یہ وی آئی پی کتا زیربحث تھا اس لئے میں نے معلوم کیا کہ اس کے پروٹوکول کا آج کل کیا عالم ہے تو پتہ چلا کہ میری خبر کے بعد ہیلی کاپٹر میں ان کو لانے لے جانے کا سلسلہ توبند ہوگیا ہے لیکن اب ان کے لئے خصوصی طور پر ایک سرکاری نمبر پلیٹ والا ڈالا سرکاری خرچ پر تیار کیا گیا ہے ۔ جب وزیراعظم صاحب ، وزیراعظم ہائوس آتے ہیں تو اس وی آئی پی کتے کو ڈالے میں بٹھا کر بنی گالہ سے وزیراعظم ہائوس منتقل کیا جاتا ہے اور جب بنی گالہ جاتے ہوئے وہ ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوتے ہیں تو کتا صاحب ڈالے میں تشریف لے جاتے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ فیصل جاوید صاحب اور بابر بن عطا صاحب اگلی ویڈیو ، نئے وزیراعظم کے کتے کے پروٹوکول

اور وزیراعظم ہائوس میں اس کی سرگرمیوں سے متعلق جاری کریں گے ۔ ظاہر ہے قوم کو ماضی کے وزرائے اعظم کی بھینسوں کے مقابلے میں حال کے امیرالمومنین کے کتے کےشب و روز سے زیادہ دلچسپی ہے ۔ اسی طرح قوم کو اگر ماضی کے وزرائے اعظم کے ٹوائلٹ اور نہانے کے ٹب دکھائے جاتے ہیں تو اس کا یہ بھی حق ہے کہ اسے نئے وزیراعظم کے کتے کا ڈالہ اور اس کا سرکاری ڈرائیور بھی دکھا دیا جائے ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن مجھے ڈر ہے کہ خاکم بدہن کہیں یہ لوگ اسے تاتاریوں کے وقت کا بغداد نہ بنا دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…