اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

امریکہ ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرے،آئی ایم ایف کو ڈکٹیشن دینے پر پاکستان کا شدید ردعمل سامنے آگیا، انتباہ کردیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اکتوبر 2018 ء کے وسط تک ملک میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوجائے گا‘ ہر ماہ دو ارب ڈالر ذخائر میں خرچ ہورہے ہیں‘ سابقہ حکومت کی وجہ سے 2300 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا‘ امریکہ ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرے۔ ہم مزدوروں کی تنخواہ کم نہیں کریں گے۔

اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہر ماہ دو ارب ڈالر ذخائر میں خرچ ہورہے ہیں ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے ہیں سابقہ حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے‘ پنجاب کی سابق حکومت نے انتخابات جیتنے کیلئے 43 ارب کا خسارہ کیا سابق حکومت کے دور میں برآمدات کم ہوگئی تھیں ان کی ترجیح معیشت کی بحالی نہیں تھی۔ ہم نے غریب اور متوسط طبقے کی جیب پر ہاتھ نہیں ڈالا ،اکتوبر کے وسط تک غیر یقینی صورتحال ختم ہوجائے گی۔ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاری اور صنعت کو بڑھانا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ ہم (او جی ڈی سی ایل) کو نہیں بیچ رہے بڑے اداروں کی کوئی بھی چاہنے کے باوجود نجکاری نہیں کر سکتا۔ سابقہ حکومت نے پچھلے ایک سال میں گیس اور بجلی کے شعبے میں چھ سو ارب روپے کا خسارہ کیا ،اداروں کے سربراہ پروفیشنل لوگوں کو لگانا چاہیے ،ہم اس طرف کام کررہے ہیں۔ ہمیں اداروں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ ہم نے تمام اداروں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملکی خسارے کم کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ،سابق حکومت کی وجہ سے 2300 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا سابقہ حکومت اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں کچھ نہیں کر سکی۔ امریکہ کی آئی ایم ایف میں 14 فیصد شراکت دار موجود ہیں‘ امریکہ کو ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرنی چاہیے ۔ ورکر ویلفیئر بورڈ مزدوروں کا چالیس ارب روپیہ کھا گیا ہے ،جب تک برآمدات کے شعبے کو مستحکم نہیں کیا جائے گا

ملک میں ترقی نہیں ہوگی ۔اسد عمر نے کہا کہ ہمارے ملک میں بجلی گیس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت مہنگی تھیں ہم نے گیس کی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر کردیا ہے بجلی کی قیمت بھی جلد دیگر ممالک کے برابر اجائے گی ،ہم نے نجی شعبے پر بوجھ نہیں ڈالنا ،ہم مزدور کی تنخواہ کم نہیں کریں گے ،پچھلے پانچ برسوں میں ملک کو بہت نقصان پہنچایا گیا ہے ،اس وقت مشکل حالات ہیں لیکن ایسے نہیں ہیں کہ ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،ہم برآمدات کی صنعت کو بڑھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…