جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

’’تبدیلی آگئی۔۔ پاکستان نے امریکہ سے ڈومورکہہ دیا‘‘ افغانستان میں مدد کے بدلے ایسی شرط رکھ دی کہ جان کر مودی کی راتوں کی نیندیں اُڑ جائیں گی، شاہ محمود نےساری بازی ہی پلٹ کر رکھ دی

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے، خطے میں امریکی ترجیحات بدل چکیں، نئے دوست بنا لئے ہیں، بھارت نے جنوبی ایشیا کو یرغمال بنا رکھا ہے،افغانستان صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں،امریکا کو واضح کیا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں ، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں تو وہ اپنے دوست بھارت کو امن مذاکرات

پر راضی کرے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نیویارک میں منعقدہ ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب، غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کیلئے نیویارک میں موجود امریکی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز ایشیا سوسائٹی کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے، ہم افغانستان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن افغانستان صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مریکا نے خطے میں نئے دوست بنائے ہیں، اگر امریکا چاہتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں تو وہ اپنے دوست بھارت کو امن مذاکرات پر راضی کرے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، میں امریکا سے تعلقات کی بحالی کے لیے یہاں ہوں، ہم نے امریکا کو واضح کیا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔خطے میں واشنگٹن کی ترجیحات بدل گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جب بھی امریکا کے ساتھ کھڑا رہا، امریکا کو فائدہ پہنچا۔ سرد جنگ، سویت یونین کے خلاف جنگ اور نائن الیون کے بعد پاکستان امریکا کے ساتھ کھڑ ارہا۔ امریکیوں کے تحفظ میں پاکستان نے کردار ادا کیا ہے جس کو تسلیم کرنا چاہیے۔اس سے قبل غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے

میں امن کا خواہشمند لیکن دوسری جانب بھارت مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کر رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھی بھارتی حکومت سے راستے جدا کر لیے ہیں۔وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت دیگر ممالک کیساتھ تعلقات میں فروغ چاہتے ہیں۔ فلاحی اور انسانی ترقی ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت کا نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اتفاق ہے۔پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، خطے میں امن کی خواہش پر ہی کابل کا دورہ کیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں لیکن ہندوستان مذاکرات سے بھاگ رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…