بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دبئی میں 3فلیٹس، گلبرگ لاہور میں بنگلہ، اسلام آباد میں 4فلیٹس بیرون ملک کمپنیوں میں پارٹنر شپ، اہلیہ کے پاس آدھا درجن گاڑیاں اور کیاکچھ ؟جانئےاسحاق ڈار کی عدالت میں پیش قرق شدہ جائیداد کی تفصیلات

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) قومی احتساب بیورو (نیب)نے عدالت کی ہدایت پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی قرق کی گئی جائیداد کی تفصیلات پیش کردیں،نیب کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دبئی میں 3 فلیٹس، ایک لگژری گاڑی، گلبرگ لاہور میں ایک گھر اور اسلام آباد میں چار پلاٹس ہیں۔نیب نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک تین کمپنیوں میں اسحاق ڈار شراکت دار بھی ہیں جب کہ ان

کی اہلیہ کے پاس پاکستان میں 6 گاڑیاں ہیں، میاں بیوی نے ہجویری ہولڈنگ کمپنی میں 34 لاکھ 53 ہزار کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر جائیداد قرقی کے عدالتی نوٹسز کی تعمیلی رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کی پاکستان میں موجود جائیداد فروخت کرنے سے متعلق نیب کی درخواست پر سماعت کی۔قومی احتساب بیورو (ب) کے اسپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق نے سماعت شروع ہونے پر دلائل میں کہا کہ مقررہ وقت گزرنے تک اعتراض نہ آئے تو جائیداد فروخت کی جا سکتی ہے اور جائیداد قرق کرنے کے چھ ماہ بعد تک ملزم عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اسحاق ڈار کی جانب سے ابھی تک کوئی اعتراض نہیں آیا، جائیداد کی فروخت کے بعد بھی اگر ملزم پیش ہوجائے تو اسیحقوق فراہم کیے جاسکتے ہیں۔عمران شفیق نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اسحاق ڈار کی کچھ جائیدادیں لاہور اور اسلام آباد میں بھی ہیں، جو پراپرٹیز عدالتی دائرہ کار میں نہیں آتیں، اس سے متعلق حکم جاری کیا جائے۔عدالت نے اسحاق ڈار کی قرق کی گئی جائیداد کی تمام تفصیل مانگتے ہوئے سماعت میں وقفہ کیا جس کے بعد نیب کی جانب سے تفصیلات پیش کردی گئیں۔نیب کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دبئی میں 3 فلیٹس، ایک لگژری گاڑی، گلبرگ لاہور میں ایک

گھر اور اسلام آباد میں چار پلاٹس ہیں۔نیب نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک تین کمپنیوں میں اسحاق ڈار شراکت دار بھی ہیں جب کہ ان کی اہلیہ کے پاس پاکستان میں 6 گاڑیاں ہیں، میاں بیوی نے ہجویری ہولڈنگ کمپنی میں 34 لاکھ 53 ہزار کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر جائیداد قرقی کے عدالتی نوٹسز کی تعمیلی رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…