بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کالاباغ ڈیم اور افغانیوں، بنگالیوں کو شناختی کارڈ دینے کے اعلان کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے، شدید احتجاج

datetime 23  ستمبر‬‮  2018 |

حیدرآباد(آن لائن) قومی عوامی تحریک کے مرکزی اعلان پر کالاباغ ڈیم اور افغانیوں، بنگالیوں اور دیگر غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو شناختی کارڈ دینے کے اعلان کہ خلاف مختلف شہروں میں کارکنان نے ریلیاں اور مظاہرے کئے۔ اس سلسلے میں حیدرآباد میں مرکزی نائب صدر ڈاکٹر گلزار جمانی، ضلعی صدر آغا عباس، اکبر سومرو اور دیگر نے پریس کلب کے سامنے مظاہرا کیا۔

ضلع دادو کے شہر میھڑ میں ایڈووکیٹ منور جتوئی، سجاد جتوئی، ڈاکٹر واجد کاندہڑو اور دیگر نے احتجاجی ریلی نکال کر مین چوک پر دہرنا دیا۔ کندھ کوٹ میں سجاد بروہی، اعجاز بجارانی، ارسلاح بہلکنی، شعیب ڈومکی، فدا مہمدانی، علی مراد سبزوئی کی قیادت میں کارکنان نے ریلی نکال کر گہنٹا گہر چوک پر دہرنا دیا۔ قمبر شہدادکوٹ میں ضمیر مغیری، علی اکبر خاصخیلی، مٹھل کلہوڑو، گل زمان نوناری، عبید مغیری نے پریس کلب کے سامنے مظاہرا کیا۔ نصیر آباد میں ایڈووکیٹ عنایت تنیو، پناھ تنیو، تنگوانی میں رب ڈنو ملک، سچل ملک، سرور گاجانی، شاہپور چاکر میں محمود رخشانی، علی مردان کھوسو، ایاز لطیف ڈاہری، کرم خاصخیلی، مورو میں خان سومرو، غلام نبی لاکھو، ہدایت اللہ سومرو، گولاڑچی میں رمیش کمار، باغی سموں، لالچند، جھڈو میں ارباب نوحانی، شاہد کلوئی، سورج بھیل، زین لغاری، گل حسن خاصخیلی، علی بخش پتافی کی قیادت میں کارکنان نے ریلی نکال کر مظاہرا کیا۔ احتجاج کے دوران کارکنان نے کالاباغ ڈیم نامنظور، پانے پر ڈاکا نامنظور، غیر قانونی افغانیوں اور بنگالیوں کو کارڈ دینا بند کرو اور دوسرے نعرے لگائے۔ اس موقعے پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی عوام کو آرٹیکل 6 اور غداری کے مقدمات کی دہمکیاں نا دی جائیں۔ کالاباغ ڈیم نہ صرف سندھ دشمن منصوبہ ہے پر ملک دشمن منصوبہ بھی ہے، جس کو ملک کی تین صوبائی اسیمبلیاں رد کر چکی ہیں۔ اس منصوبے سے صرف پنجاب کو فائدو ہوگا باقی تین صوبی سخت پانی کی قلت کا شکار ہونگے، خاص طور پر سندھ ریگستان بن جائے گا۔

رہنماؤں نے کہا کے گذشتہ ڈیڑ سؤ سالوں سے عالمی اور اسلامی قوانین کے برعکس دریائے سندھ کا پانی چشما جہلم، تونسا پنجند اور تھل کئنال جیسے ڈاکو کئنالوں کے ذریعے زردستی چوری کیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں اب مزید ڈیم کی بات کرنے سے پہلے اس تاریخی ڈاکے کا حساب دیں۔ رہنماؤں نے کہا کے سندھ عالمی یتیم خانہ نہیں اور نہ ہی کسی کی کالونی ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں 25 لاکھ سے زائد افغانی، بنگالی، بہاری، برمی، ہندستانی، ایرانی اور دوسرے ممالک کے باشندے رہتے ہیں۔

ووہ سندھ کے وسائل پر بوجھ ہیں اور امن امان کے لیئے بڑا خطرہ ہے۔ ان بنگالیوں، بہاریوں، افغانیوں کو فوری طور پر اپنے ممالک بہیجا جائے اور اس وقت تک انھی مہاجر کئمپوں میں منتقل کیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ افغانیوں، بنگالیوں، بہاریوں اور دوسرے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دیئے گئے تو ووہ سرکاری نوکریوں پر قابض ہونگے۔ الیکشنس کے ذریئے سندھ اسیمبلی تک پہنچے گے اور پھر سندھ پر حکمرانی کریں گے۔ وفاقی حکومت سندھ اورملک دشمن فیصلے کرنا بند کرے۔ کالاباغ ڈیم منصوبے کو ہمیشہ کے لیئے رد کیا جائے۔ دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکے بند کیئے جائیں۔ غیر قانونی غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینا بند کر کے انہی واپس اپنے ملک بہیجا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…