جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

توہین رسالت کے مرتکب شخص کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی سزائے موت ،قادیانیوں کو خود کو مسلمان کہنے پر بھی بڑی سزائیں،نیا قانون آگیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آئی این پی ) سینیٹ میں الیکٹرانک کرائمز کی ممانعت ( ترمیمی) بل2018پیش کر دیا گیا۔بل کے تحت سوشل میڈیا پر قر آن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کرنے والے کو عمر قید ،توہین رسالت کے مرتکب شخص اور توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت ، مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات کے استعمال پر تین سال قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

بل میں قادیانی گروپ کے لوگوں کو خود مسلمان کہنے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے پر تین سال تک کی قیداور جرمانہ بھی کیا جائے گا، بل میں سوشل میڈیا پر فحش مواد تیار ڈالنے پر 4سال تک قید اور30لاکھ روپے جرمانہ ، فحش مواد کو کسی بھی قانونی جواز کے بغیر کسی کو بھی تقسیم پر 3سال تک قید اور20لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا۔ بل مزید غورو خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔بدھ کو سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر نے الیکٹرانک کرائمز کی ممانعت ( ترمیمی) بل2018پیش کیا ، بل کے مطابق کسی بھی طبقے کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے اس کے مذہب کی یا مذہبی عقائد کے توہین آمیز مواد کو پھیلانے پر 10سال تک کسی بھی نوعیت کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی ، قر آن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کرنے والے کو عمر قید کی سزا دی جائے گی،توہین رسالت کے مرتکب شخص کوسزائے موت دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جا سکے گا ، مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات کے استعمال پر تین سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی ، بعض مذہبی شخصیات یا زیارت گاہوں کے لئے مخصوص ، صفات ، توضیحات اور عنوانات وغیرہ کے غلط استعمال پر تین سال تک سزائے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جائے گا ، قادیانی گروپ وغیرہ کے شخص کی طرف سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے پر تین سال تک سزا ئے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جائے گا ،

بل میں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت دینے کی تجویز دی گئی ہے،توہین رسالت سے متعلق مقدمے کی سماعت گریڈ 18کا افسر کر ے گا ۔ بل میں سوشل میڈیا پر فحش مواد تیار کر تا ہے یا فروخت کرتا ہے اسکو 4سال تک کی پابند سلاسل اور30لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا۔اسی طرح فحش مواد کو کسی بھی قانونی جواز کے بغیر کسی کو بھی تقسیم کرتا ہے تو جرم کا قصور وار ہوگا اور اسے3سال تک قید اور20لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا۔ پریزائڈنگ افیسر سینیٹر ستارہ ایاز نے بل کو مزید غورو خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…