بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دشمنوں کے منہ پر زور دار طمانچہ،265فراریوں نے ہتھیار ڈال دئیے قومی پرچم کے سائے تلے سکون کی زندگی گزر بسر کرونگا،ہتھیار ڈالنے والے فلک شیر نے پہاڑوں پر بیٹھے اپنے ساتھیوں کو زبردست مشورہ دے ڈالا

datetime 18  ستمبر‬‮  2018 |

کوئٹہ ( آن لائن)265 فراری وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو اپنے ہتھیار حوالے کر تے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہو گئے۔ قومی دھارے میں شامل ہونیوالے فراریوں اورکمانڈرز کو قومی پرچم اور کمانڈر کوپانچ لاکھ ،سب کمانڈر کو ڈھائی لاکھ جبکہ دوسرے فراریوں کو ایک ، ایک لاکھ روپے دیئے گئے ۔

فراریوں کی ہتھیار ڈالنے کی تقریب صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار میں ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی ، کمانڈر سدن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم با جوہ ، قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر ورکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند ، صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی ، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم ، انسپکٹر جنرل پولیس محسن حسن بٹ سمیت اعلیٰ عسکری وسول حکام بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر فلک شیر نے کہا ہے کہ پندرہ سال اغیار کے ہاتھوں میں استعمال ہونے پر آج مجھے افسوس ہے۔ پہاڑوں سے اترے تو بلوچستان کے حکومت میں ہمیں پیار سے گلے لگایا ۔قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد آج میں اپنے اہل خانہ کیساتھ سکون کی زندگی گزار رہا ہوں۔ میں باقی دوست جو پہاڑوں پر بیٹھے ہیں ان سے یہی کہونگا کہ وہ بھی اغیار کے ہاتھوں میں استعمال ہونے کے بجائے قومی دھارے میں شامل ہو کر باعزت شہری بنیں۔ 15 سال دوسروں کے ہاتھوں میں استعمال ہونے پر آج ہمیں افسوس ہے اور آج کے بعد میں کالعدم تنظیم کو چھوڑ کر پاکستان کے ایک مہذب شہری کی حیثیت سے زندگی گزارونگا۔ آج کے بعد قومی پرچم کے سائے تلے سکون کی زندگی گزر بسر کرونگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…