اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کردی گئی،مزید کتنے دن باقی ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

کوئٹہ/ حب(آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کسی اور کا مینڈیٹ لے کر آئی ہے ان کی جنگ عوام کے لئے نہیں بلکہ وزارتوں کے لئے ہے ، صرف بلوچستان نیشنل پارٹی ہی بلوچستان کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے ماضی میں بلوچستان کے عوام کیساتھ زیادتی ہوئی ہے بی این پی ان زیادتیوں کا ازالہ کرنے کے لئے جدوجہد کرنے پر عمل پیرا ہے

ہم جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ ہے اور جمہوریت کی بقاء کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں ان خیالات کا اظہا رانہوں نے وند ر میں مختلف وفود سے بات چیت اور بعدازاں میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی اقتدار کے لئے نہیں لڑیں گے بلکہ جو سالوں سے صوبے میں مسائل پڑے ہوئے ہیں ان مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے کیونکہ ماضی میں جو لوگ اقتدار میں آئے انہوں نے صوبے کے مفادات کی بجائے اپنی ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور آج بھی جو لوگ حکمران ہے وہ عوام کے لئے نہیں بلکہ وزارتوں کے لئے تھگ ودو کر رہی ہے اقتدار تو نشہ ہے ابھی منزل آگے ہیں بلوچستان حکومت پانچ سال اپنی جگہ پانچ ماہ چلے بھی بڑی بات ہے کیونکہ اتحادیوں کے درمیان بڑے مسائل ہے اور وہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ہم نے وفاقی حکومت کے سامنے چھ نکات پیش کئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان چھ نکات پر عملدرآمد ضروری کر ے گی اگر ایسانہ کیا گیا تو پھر جمہوریت میں ہر کسی کو اپنا اختیار ہے اور ہم پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کسی اور کا مینڈیٹ لے آئی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کبھی بھی مدت پوری نہیں کر سکتی انہوں نے کہاہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے ماضی میں بلوچستان کے عوام کیساتھ زیادتی ہوئی ہے بی این پی ان زیادتیوں کا ازالہ کرنے کے لئے جدوجہد کرنے پر عمل پیرا ہے ہم جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ ہے اور جمہوریت کی بقاء کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…