منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل ہونیوالے سلمان تاثیر کی بیٹی نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ’’بھوتنی‘‘ قرار دیتے ہوئے انتہائی سنگین الزامات عائد کر دیے

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو کہ عبایا زیب تن کرتی ہیں، وہ سرکاری تقریبات میں بھی عبایا میں ہی نظر آتی ہیں، ان کے اس لباس کا جہاں سراہا جا رہا ہے وہاں کچھ لوگ ان کے لباس کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، انہی لوگوں میں ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل ہونے والے سلمان تاثیر کی بیٹی سارہ تاثیر بھی شامل ہیں،

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ میری 9 سالہ بیٹی سونی کے اسکول میں اگر کوئی خاتون اس طرح کا عبایا پہن کر اور اپنا چہرہ ڈھک کر آجائے تو وہ ڈر کے مارے چیخ اُٹھے گی۔ سارہ تاثیر نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ بشریٰ، براہ مہربانی بچوں کو اکیلا چھوڑ دیں۔ ایک اور ٹوئٹر صارف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بشریٰ بی بی ہمارے ملک میں ڈاکٹرز، سرجنز، صحافی اور کرکٹرز بننے کی خواہش رکھنے والی طالبات کے لیے رول ماڈل نہیں بن سکتیں لہٰذا انہیں میڈیا سے دور رکھا جائے، صارف نے لکھا کہ ہم ان کے لباس کے انتخاب کا احترام کرتے ہیں لیکن قرآن پاک اور حدیث میں خواتین کو چہرہ ڈھانپنے کا نہیں کہا گیا، مزید لکھا کہ یہ اسلامی نہیں ہے۔ اس پر سارہ تاثیر نے لکھا کہ میرے بشرٰی بی بی کے بارے میں یہی خیالات ہیں، بشریٰ بی بی کے عبایا پہننے سے عالمی سطح پر پاکستان کا منفی تاثر ابھریگا۔ سارہ تاثیر نے مزید لکھا کہ جن کو میری بات سے دکھ ہوا ہے میں ان کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بشریٰ بی بی کا لباس صرف پاکستان کے لیے برا نہیں ہے بلکہ پاکستانیوں لڑکیوں کے لیے ایک بدترین مثال ہے، ان کے لباس سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو صرف گھروں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے اور انہیں باہر نکلنے کے مواقع نہیں دیے جاتے۔ سارہ تاثیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ بشریٰ بی بی کے لباس کا پاکستان کی ثقافت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…