اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

انتخابات میں شکست، (ن) لیگ خیبر پختونخوا میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے،مقامی رہنماؤں نے امیر مقام کیخلاف اعلان کردیا

datetime 30  جولائی  2018 |

پشاور(سی پی پی) عام انتخابات میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل نہ کرنے پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پی کے میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات میں خیبرپختونخوا میں شکست نے پارٹی کو مزید تقسیم کردیا ہے اور پارٹی کے کچھ رہنما خاص طور پر ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے رہنما صوبائی صدر امیر مقام کے بھی مخالف ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن)کے کچھ سرگرم کارکنوں کا کہنا تھا انتخابات میں شکست نے پارٹی کی سینئر قیادت کو کافی مایوس کیا اور انہیں یہ موقع مل گیا کہ وہ پارٹی کی صوبائی قیادت کو میرٹ کی بنیاد پر ٹکٹ فراہم کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنا سکیں۔ذرائع کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پارٹی کے سابق صوبائی صدور پیر شبیر شاہ اور سردار مہتاب احمد خان نے بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن وہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے جیل میں ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتے۔ذرائع کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران ہی اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی اور امیر مقام، کیپٹن (ر)صفدر اور مرتضیٰ جاوید عباسی کی حمایت کر رہے تھے جبکہ میاں برادران کی تجویز کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ عام انتخابات میں ملک بھر سے دھاندلی کی شکایات موصول ہوئی لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ(ن)پنجاب اسمبلی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، تاہم وہ خیبرپختونخوا میں اپنی سابقہ پوزیشن بھی کھو بیٹھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن)نے صوبائی اسمبلی میں 16 نشستیں حاصل کی تھی جبکہ 2018 انتخابات میں ان نشستوں کی تعداد 5 ہوگئی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں ایم این اے کی تعداد 6 سے کم ہو کر 3 رہ گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ لوگوں کو ایک شخص کی جانب سے تمام فیصلے کیے جانے پر تحفظات تھے کیونکہ وہ فیصلوں میں صوبائی کونسل کو اعتماد میں نہیں لے رہے تھے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی صدر نے صوبائی کونسل کو نظر انداز کردیا تھا اور تمام فیصلے اپنی مرضی سے کیے تھے اور باقی تمام افراد کو انتخابی مہم سے دور رکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…