بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان ریلوے کے خسارے سے متعلق آڈٹ رپورٹ منظر عام پر آگیا، خسارہ 40بلین تک پہنچ گیا،،گزشتہ پانچ سالوں میں کیا ہوتارہا؟سپریم کورٹ میں افسوسناک انکشافات

datetime 24  جولائی  2018 |

لاہور ( این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان ریلویزمیں خسارے سے متعلق ازخودنوٹس کیس میں فرانزک آڈٹ رپورٹ میں دی گئی تجاویزکوشائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ چنے والے کہاں ہیں،اگلی تاریخ پر جواب دیں ، ادارے نہیں چل رہے توسمجھ سے بالاہے ملک کیسے چل رہا ہے؟۔گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ریلوے میں خسارے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی ۔ریلوے افسران نے عدالت میں پیش ہوکر فرانزک آڈٹ رپورٹ پیش کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کسی خوف کے بغیر دینی تھی۔ بتائیں کیا ریلوے میں سب اچھا ہے ؟۔ جس پر آڈٹ افسر نے جواب دیا کہ رپورٹ اچھی نہیں ہے۔ریلوے کا خسارہ 40بلین ہے اور خسارے کی بنیادی وجہ غیر ذمہ داری اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہے، ریلوے کے 500میں صرف 50اسٹیشنز کمپیوٹرازڈ ہیں، ریلوے کا 70فیصد ریونیو پنشن کی مد میں جا رہا ہے، ڈبل ٹریک منصوبہ 4برسوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ چیف جسٹس نے آڈٹ آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا گزشتہ 5 سالوں میں سب سے زیادہ خرابی پیدا ہوئی۔ جس پر آڈٹ آفیسر نے جواب دیا کہ خرابی تو 70 برسوں سے چلی آرہی ہے۔ مگر گزشتہ 5 سالوں میں خرابی دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ادارے نہیں چل رہے تو سمجھ سے بالا ہے کہ ملک کیسے چل رہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ چنے والے کدھر ہیں،اگلی تاریخ پرجواب دیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ فرانزک آڈٹ رپورٹ میں دی گئی تجاویز کو شائع کیا جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…