جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی پی پی 123سے امیدوار یہ خاتون جب ’’پرچی‘‘ لیکر میڈیا کے سامنے آئی تو اس کی کیا حالت ہوگئی؟ پریس کانفرنس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل

datetime 16  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے  کارکنوں اور قیادت کی جانب سے ’’ پرچی‘‘ والے سیاستدانوں کا بھرپور مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اس مذاق کا سب سے زیادہ نشانہ نواز شریف بنتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی پی پی 123 سے خاتون امیدوار  میڈیا کو پرچی کے باوجود اپنا بیان نہیں دے سکیں اور بچے کی طرح سبق پڑھتی ہوئی نظر آئیں ۔

تفصیلات کے مطابق مخدومہ سیدہ سونیا علی رضا شاہ پر انتخابی مہم کے دوران الزام لگا کہ ان کی گاڑی نے ایک شخص کو کچل کر ہلاک کردیا ہے، مخالفین کی جانب سے حلقے میں اس پر بھرپور واویلا کیا گیا جس کے بعد اس خاتون نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا فیصلہ کیا اور ہنگامی پریس کانفرنس بلالی۔سونیا شاہ نے تین صحافیوں اور پانچ مائیکس کی موجودگی میں اپنی  ہنگامی پریس کانفرنس  کا آغاز کیا۔ اس دوران انہیں ’’ پرچی‘‘ اور کارکنوں کی مدد بھی حاصل تھی لیکن موبائل فونز کے کیمرے آن دیکھتے ہی محترمہ کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے اور سب کچھ  بھول گئیں۔سونیا شاہ نے پرچی سے بار بار اپنا موقف واضح کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ ایک بھی جملہ مکمل ریکارڈ نہ کراپائیں ۔انہوں نے پریس کانفرنس میں پیش آنے والی مشکلات پر اپنی پوزیشن بھی واضح کی اور موقف اپنایا کہ انہوں نے دراصل کچھ نہیں کھایا اس لیے وہ ٹھیک سے بول نہیں پارہیں۔ اس سے پہلے کہ خاتون رو دیتیں پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا اور ان کے قریب کھڑا ہو کر پرچی پر لکھا اونچی آواز میں پڑھتا رہا ۔سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…